حیاتِ خالد — Page 346
حیات خالد 346 اے کہ زندہ تجھ سے ہے اسلامیوں کی داستاں ی نظم ۱۹۳۲ء میں قیام فلسطین کے دوران لکھی گئی ) ممالک بیرون کے اسفار سرزمین معرفت، اے جلوہ گاہ قدسیاں اے نشانِ ذات حق ، اے مہبط کروبیاں اے کہ تیرے نام پر سو بار جان و دل فدا اے کہ زندہ تجھ سے ہے اسلامیوں کی داستاں اے کہ تو ہے منبع علم و ہدی، فہم و ذکاء اے کہ تو ہے اِس جہاں میں درسگاہ عارفاں کوثر بنا ہے جو برائے شنگاں برتر از چرخ چهارم تیرا رتبہ کیوں نہ ہو جب کہ ہے نازل ہوا تجھ میں مسیحائے زماں وہ جری، باطل شکن، مامور حق، احمد نبی جس کی تقریروں سے گونجے بار ہا ہفت آسماں ہاں وہی تو ، جس نے باطل کر دیا پیچ خاک جس نے تم کہہ کر گئے زندہ ہزاروں نیم جاں مُردہ روحوں کیلئے لایا جو پیغام حیات چشمه دشت ظلمت میں بھٹکتے تھے جہاں کے فلسفی آفتاب حق سے مغرب ہو گیا اب نکتہ داں پاسبانِ امت احمد، ہوا محمود حق حُسن و احساں میں جو ہے مثلِ مسیحائے زماں یاد ہے وہ درس قرآن روح پرور دلربا مسجد اقصیٰ میں ہاں وہ مجمع پیر و جواں قلفی غرب دیکھا منطقی شرق بھی پر نہ پایا اپنے آقا سا کوئی شیریں بیاں چھوٹی بستی لوگ کہتے ہیں حقارت سے تجھے پر سمجھتا ہوں تجھے میں اس زمیں کا کہکشاں یاد ایا میکہ تو تھی جب ہماری درسگاہ اور ہمارا مسکن و ماویٰ تھی اے جنت نشاں ایک مدت کیلئے گو ہم خدا تجھ سے ہوئے ہر دل مضطر میں ہیں انوار تیرے ضوفشاں و آه کیسی خوش گھڑی ہوگی کہ بانیل مرام باندھیں گے رخت سفر کو ہم برائے قادیاں