حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 303 of 923

حیاتِ خالد — Page 303

حیات خالد 302 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام پر کتاب اقدس نقل کی ہوئی ہے۔جو اخویم با بو معراج الدین صاحب بغداد کی مہربانی سے صرف چند دنوں کیلئے ایک بہائی سے عاریتا ملی تھی۔میں نے وہ عبارات ان دونوں بہائیوں کے سامنے پیش کیں۔جن کی انہوں نے تصدیق کی اور علیحدگی میں برادرم منیر افتدی سے از راہ تعجب کہنے لگے کہ اس نے تو کتاب اقدس بھی اپنے پاس رکھی ہوئی ہے اس کے بعد ابھی تک بہائی دوست گفتگو کیلئے تیار نہیں ہوئے۔باقاعدہ مباحثہ سے تو انہوں نے بالکل انکار کر دیا ہے۔ڈاکٹرز کی مبارک مصر کے مشہور ترین ادباء میں سے ہیں میں نے ان سے ملاقات علمی مکالمه کیلئے وقت مقرر کیا۔مقررہ وقت پر ان کے پاس ایک بڑا ازھری عالم بھی موجود تھا۔میرے ساتھ برادرم منیر افندی اکھنی بھی تھے۔ڈاکٹر صاحب موصوف خوش اخلاقی سے پیش آئے۔قریباً ایک گھنٹہ تک قرآن مجید کے بعض لغوی مفصلات کے متعلق تبادلہ خیالات ہوتا رہا۔مستشرقین اور اسلامی نقطہ نگاہ سے عربی زبان کے اشتقاقات اور دوسری زبانوں سے نسبت پر علمی محادثہ جاری رہا۔ڈاکٹر صاحب اور ان کے ازھری ساتھی نے ہماری گفتگو کو بہت پسند کیا اور بعض باتوں کو بالکل اچھوتا قرار دے کر تسلیم کیا اور بعض نظریوں کی تحقیقات کا وعدہ کیا۔آخر ڈاکٹر صاحب نے باصرار ہمیں دو پہر کے کھانے کیلئے مجبور کیا۔ستمبر کو ایک ہفتہ کیلئے میں راس البر آیا۔اس جگہ ہمارے دوست دمیاط اور راس البر کا سفر محمد الدین اقتدی الصنی کی موسم گرما کی دکان ہے۔یہ سمندر کے کنارے گرمی گزارنے کا عارضی مقام ہے۔اس موقعہ پر تبلیغ کی تو فیق ملتی رہی۔بعض عیسائی دوستوں کو پیغام حق پہنچایا۔دمیاط شہر کے ایک معزز دوست کو احمدیت کی خوب تبلیغ کی۔اس نے مجھے اور برادرم منیر افندی کو کھانے کیلئے دمیاط بلایا۔جس میں بعض اور معززین کو بھی مدعو کیا۔خدا کرے کہ اس جگہ بھی جماعت پیدا ہو جائے۔آمین احمدی مدارس کے لڑکوں اور لڑکیوں نیز دوسرے احباب کیلئے خبر اس المومنین کی اشاعت میں نے آنحضرت ﷺ کی احادیث کا مناسب مجوعہ منتخب کر کے چھپوایا ہے۔جس کا نام نبراس المومنین رکھا ہے۔یہ ۳۲ صفحات کی کتاب ہے۔عمدہ کاغذ پر اعراب لگا کر احادیث طبع کی گئی ہیں۔یہ کتاب کہا بیر کے احمد یہ سکول کے طلبہ کے کورس میں داخل کر دی گئی ہے۔امید ہے که اگر نظارت تعلیم و تربیت نے اسے منظور کر لیا تو ہر جگہ نصاب تعلیم میں جاری کر دی جائے گی۔انشاء اللہ