حیاتِ خالد — Page 254
حیات خالد 260 مناظرات کے میدان میں اہلحدیث کی طرف چلا گیا۔علماء میں سے ایک صاحب غالباً مولوی محمد رفیق صاحب مدن پوری نے گزشتہ ایک مناظرہ کی جو مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل جالندھری اور مولوی نورحسین صاحب گر جاتی الحدیث عالم کے درمیان کسی مقام پر ہوا تھا کی کچھ روئیداد سناتے ہوئے بتایا کہ قادیانی عالم مولوی اللہ دتا صاحب جالندھری کے مقابل ہمارے مناظر مولانا نور حسین صاحب گر جاکھی نے مناظرہ میں ایک حدیث پیش کی۔اپنے وقت پر مد مقابل قادیانی مناظر نے چیلنج دیا کہ اگر یہ حدیث انہی الفاظ میں ہو جن میں اہلحدیث عالم نے پیش کی ہے تو میں آج سے ان کی علمیت کا سکہ تسلیم کرلوں گا اور اگر اس پیش کردہ حدیث میں بعض الفاظ وضعی ہوں اور اصل حدیث کی کتاب میں نہ ہوں تو پھر مولوی نورحسین صاحب گر جا کبھی کو اپنی شکست تسلیم کرنا ہوگی۔چونکہ اصل کتاب فریقین کے پاس موجود نہیں تھی اس لئے معاملہ کھٹائی میں پڑا رہا لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ مولانا ابوالعطاء صاحب نے جس اعتماد اور دلیری سے مخالف کو چیلنج کیا اس کا عام پبلک پر گہرا اثر ہوا۔مناظرہ ختم ہو جانے کے بعد بعض اہلحدیث علماء نے اپنے مناظر کو کہا کہ یہ الفاظ آپ نے حدیث کی کسی کتاب میں پڑھے ہیں تو مولوی نور حسین صاحب گر جا کھی کوئی جواب نہ دے سکے۔خاکسار اس واقعہ سے بے حد لطف اندوز ہوا اور مجھے اندازہ ہوا کہ حضرت مولانا ابو العطاء صاحب کی مناظرہ میں گرفت بڑی سخت ہوتی تھی اور ان کے دلائل کے سامنے مخالف لا جواب ہو جاتا تھا۔ه مکرم عبد الغفور صاحب سابق کارکن نظارت وقف عارضی حال مقیم امریکہ لکھتے ہیں۔" حضرت مولانا بلا د عر بیہ یعنی حیفا فلسطین سے واپس قادیان آئے تو اس وقت انہوں نے ایک کتاب لکھی تھی بہائی تحریک پر تبصرہ اس وقت جلسہ سالانہ پر آپ کی تقریقی۔تقریر کے بعد حضرت مولانا نے اس کتاب کا اعلان کیا۔میرا خیال ہے کہ سب سے پہلے ہم نے ہی وہ کتاب خریدی تھی۔اس وقت سے حضرت مولانا سے ملاقات کا سلسلہ شروع ہوا۔اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ ہمارے گاؤں کڑی افغاناں ڈاکخانہ کا ہندواں تحصیل و ضلع گورداسپور میں کچھ لوگ بہائی ہونے شروع ہو گئے تھے جس کی وجہ سے حضرت مولانا سے بھی رابطہ پیدا ہونا شروع ہو گیا۔ہمارا گاؤں قادیان سے تقریباً چار میل کے فاصلے پر تھا چونکہ ہمارے گاؤں میں بہائیوں کی وجہ سے بار بار حضرت مولانا کو ہمارے گاؤں آنا پڑا اس لئے ہمارے گاؤں کے غیر از جماعت افراد بھی حضرت مولانا صاحب کو بڑا پسند کیا کرتے تھے۔ہمارے گاؤں میں جب بھی کوئی بہائی مبلغ آتا تو سب دوست مجھے قادیان بھجواتے کہ جاؤ مولوی