حیاتِ خالد — Page 219
حیات خالد 225 مناظرات کے میدان میں دوسرے کنارے پر کھڑے ہیں اگر چہ اس وقت مرزا منور احمد صاحب کو باہر نکالا جا چکا تھا اور بہت سے احباب ان کے بدن کو سہلا رہے تھے۔مگر ڈرضرور تھا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے مرزا منور احمد صاحب کو کامل شفاء بخشی اور جماعت احمدیہ کو اس مقابلہ کے موقعہ پر شماعت اعداء سے بچالیا۔ایک گھنٹہ کے بعد مرزا منور احمد صاحب چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔الحمد للہ۔اس سے قبل ۱۵ جون کی شام کو جب حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی تقریر کیلئے کھڑے ہوئے تھے تو شدید آندھی آئی اکثر احباب کا خیال تھا کہ جلسہ ختم کر دیا جائے مگر مولوی صاحب موصوف نے کھڑے ہو کر خاموشی سے چند منٹ دعا کرنے کے بعد تقریر شروع فرما دی۔شاید پانچ سات منٹ تک آندھی چلی ہوگی کہ اس اثناء میں غیر احمد یوں کا خیمہ گر گیا اور پھر ایکا ایک آندھی بند ہو کر خوشگوار ہوا کی صورت میں تبدیل ہو گئی۔چنانچہ بعد ازاں کافی دیر تک حضرت مولوی راجیکی صاحب کی تقریر جاری رہی۔اس واقعہ کا ذکر مولوی صاحب نے اپنی تقریر میں بھی کر دیا تھا۔اس لحاظ سے مخالفین ہمارے ایک نو جو ان کی غرقابی پر خوش ہونے والے تھے بلکہ چہ میگوئیاں کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اسے بچا کر اس موقعہ پر ہمیں شماتت اعداء سے بچالیا۔خاکسار۔ابوالعطاء جالندھری (الفضل ۲۶ جون ۱۹۴۰ ء صفحه ۵) حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے اپنی سوانح کے ایک پادری صاحب کا قبول اسلام جو ھے حیاۃ ابی العطاء " کے نام سے الفرقان میں حصے قسط وار تحریر فرمائے۔انہی میں ذیل کا واقعہ بھی درج ہے۔جو ماہنامہ الفرقان کی اپریل ۱۹۷۳ء کی اشاعت میں شائع ہوا۔حضرت مولوی صاحب تحریر فرماتے ہیں: ذیل میں تازہ کتاب تاریخ احمدیت جموں و کشمیر کے مصنف مولوی اسد اللہ صاحب الکاشمیری کے الفاظ میں ایک دو واقعات ملاحظہ فرما ئیں۔آپ لکھتے ہیں:۔(۱) ۵روفا ( جولائی ۱۹۴۰ء) نظارت دعوۃ و تبلیغ کی ہدایت کے مطابق مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کشمیر میں تبلیغ کیلئے مقرر ہوئے اور ۴ رتبوک ( ستمبر ۱۹۴۰ء ) تک وہاں تبلیغ کی۔اس دوران میں سرینگر کے ایک رسالہ مسلم نے افسوس کے ساتھ یہ خبر شائع کی کہ اسلام آباد میں ایک پادری اشتہار تقسیم کر کے مسلمانوں کو گمراہ کر رہا ہے اور کوئی مولوی اس کے جواب کی طرف توجہ نہیں کر رہا۔مولانا ابوالعطاء صاحب نے پادریوں کے نام کھلی دعوت اور مسلمانان کشمیر سے درخواست“ کے عنوان سے