حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 218 of 923

حیاتِ خالد — Page 218

حیات خالد 224 مناظرات کے میدان میں الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی شان میں خواہ مخواہ بد زبانی شروع کر دی اس پر ہمارے دوستوں نے احتجاج کیا اور صدر جلسہ مولوی ابوالعطاء صاحب نے پورے زور کے ساتھ مجسٹریٹ صاحب کو توجہ دلائی کہ اس شخص کو ان الفاظ کے واپس لینے پر مجبور کیا جائے۔انسپکٹر صاحب پولیس نے شہادت دی کہ واقعی لال حسین اختر صاحب نے سخت ناروا کلمہ کہا ہے اور احمدیوں کی واقعی دلا زاری کی ہے۔اس پر مجسٹریٹ صاحب نے احراری نمائندہ شریف حسین صاحب وکیل کو بلوا کر حکم دیا کہ مولوی لال حسین اختر صاحب یہ الفاظ را پس لیں ورنہ مناظرہ بند کر دیا جائے اور آپ لوگ یہاں سے فورا چلے جائیں اس پر لال حسین اختر صاحب نے کھڑے ہو کر کہا کہ میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں اس پر مناظرہ شروع ہوا۔تیسر ا مناظرہ آٹھ بجے شام ختم ہوا بعض احباب تو اسی وقت روانہ ہو گئے اور بہت سے کھانا کھا کر رات کے وقت سائیکلوں پر اور پیدل گئے اور اس طرح یہ جلسہ و مناظرہ بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔الفضل ۹ ارجون ۱۹۴۰ء: نمبر ۱۳۸: جلد ۲۸ صفه ۲) نوٹ: ذیل کا واقعہ اسی مناظرہ کا ایک احمدی نوجوان کی قابل داد جرات و بہادری ضمنی واقعہ ہے جس کی تفاصیل ابھی آپ پڑھ چکے ہیں۔اس واقعہ سے مناظرہ کے موقع پر اللہ تعالی کی غیر معمولی تائید و نصرت کا بھی اظہار ہوتا ہے۔اس زاویہ نظر سے یہ واقعہ پیش کیا جاتا ہے۔(مؤلف) ۱۶ جون ۱۹۴۰ء کو موضع غازی کوٹ تحصیل گورداسپور میں مناظرہ ہوا۔اس مناظرہ کو سننے کے لئے دارالامان سے بہت سے احباب تشریف لے گئے تھے۔غازی کوٹ کے پاس ایک بہت بڑی نہر بہتی ہے۔۶ ارجون علی الصبح بہت سے نوجوان اس نہر میں نہانے گئے۔اسی اثناء میں مرزا منور احمد صاحب مولوی فاضل مجاہد تحریک جدید کا دم ٹوٹ گیا اور گہرے پانی میں انہیں غوطے آنے شروع ہو گئے۔اس وقت وہ وہاں اکیلے تھے۔انہوں نے مدد کیلئے آوازیں دیں۔اتنے گہرے پانی میں سے ایک جسیم نوجوان کو ڈوبنے سے بچانا آسان کام نہ تھا۔مولوی عبد الکریم صاحب مولوی فاضل پسر حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب فاضل نے جرات کر کے چھلانگ لگائی اور جانفشانی سے مرزا منور احمد صاحب کو نیم بیہوشی کی حالت میں کنارے پر لے آئے ان کا یہ بہادرانہ فعل اس قابل ہے کہ احمدی نوجوان اس کی تقلید کریں۔شور پڑنے پر جب میں مکان سے نہر پر گیا تو دیکھا کہ غیر احمدی مولوی بھی