حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 21 of 923

حیاتِ خالد — Page 21

حیات خالد 21 ایک دل گداز تحریر تیری ذات عالم الغیب اور باقی ہے۔پس تو اپنے اس ناتواں اور لڑ کھڑاتے عاجز بندے کی دستگیری فرما۔اور اس کو ہمیشہ کیلئے ریاء کاری اور انانیت، تکبر سے محفوظ رکھ۔خادم دین بنا۔اس کی اولاد کو اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا۔اے خدا! یہ کام میرے لئے ناممکن ہیں پر تیرے لئے سب آسان ہے تو خدا ہے میں تیرا بندہ ہوں۔تو میری بندگی کی لاج رکھ لے اور اپنی ربوبیت کی وسیع چادر میں چھپالے۔اے خدا! تیرے سوا آسمان وزمین میں میرا کوئی نہیں۔میں ایمان لاتا ہوں کہ تو ہی اکیلا اور یکتا ہے۔تیرا کوئی شریک نہیں۔ہر وقت تیرا ہی سہارا قابل اعتماد ہے۔میں مٹ جاؤں گا ، فنا ہو جاؤں گا مگر تیری رضاء کی راہیں غیر محدود ہیں۔تو مجھے اپنے فضل سے ، اپنے رحم سے ، اپنے کرم سے ، مغفرت کے نیچے ڈھانپ لے۔میں اکیلا ہوں، میں نمکین ہوں، میں بے بس ہوں، میں بے ہنر ہوں، میں بے علم ہوں، میں ہر خوبی سے خالی اور ہر عیب کا منبع ہوں مگر صرف تیرا بندہ ہوں۔تیرے سوا سب مجھے ٹھکراتے ہیں ، دھتکارتے ہیں ، نفرت کرتے ہیں۔مگر اے میرے رب ! تو مجھ سے نفرت نہ کر۔تو مجھے نہ دھتکار۔تو مجھے نہ ٹھکرا۔کیونکہ تیرے سوا میرا کوئی نہیں، تو میرا ہو جا اور میری ساری غلطیوں کو دھو کر پاک کرلے۔اے خدا! تو اپنی رحمت کے صدقے ایسا ہی کر ایسا ہی کر۔آمین ثم آمین میں تیرا نا کارہ بندہ ہوں عاجز دار الامان ۱۳؍ جولائی ۱۹۳۱ء اللہ دتا جالندھری بوقت کے بجے شام مسجد مبارک۔قادیان نوٹ: اس تحریر کا قلمی عکس اس کتاب میں دوسری جگہ دیا جارہا ہے۔