حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 214 of 923

حیاتِ خالد — Page 214

حیات خالد 220 مناظرات کے میدان میں ہماری طرف سے مولوی ابوالعطاء صاحب جالندھری اور غیر مبائعین کی طرف سے مولوی احمد یار صاحب مناظر پیش ہوئے۔مناظر غیر مبالکین نے جس قدر باتیں اپنی تائید میں پیش کیں۔ابوالعطاء صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات سے ان کا حل پیش کر کے بالاخر غیر مبائع مناظر سے یہ منوالیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منکرین ضرور کا فر ہیں۔مگر کہا کہ وجہ تکفیر انکار مسیح موعود نہیں بلکہ تکفیر مسیح موعود ہے اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر بدر ۲۶ / جون ۱۹۰۳ء اور حقیقته الوحی صفحہ ۱۶۳ کا حاشیہ پیش کر کے وضاحت سے ثابت کیا کہ ان دونوں مقامات پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے انکار کو وجہ کفر قرار دیا ہے۔علاوہ ازیں کئی مطالبات غیر مبائع مناظر سے کئے گئے جن کا قطعاً کوئی جواب نہ دیا گیا۔اسی طرح مسئلہ نبوت پر ہمارے مناظر مولوی ابوالعطاء صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات پیش کر کے ثابت کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام غیر تشریعی امتی نبی ہیں غیر مبائع مناظر نے کہا کہ اُمتی نبی سے مراد محدث ہے اور تبدیلی عقیدہ سے پہلے کے حوالہ جات پیش کئے اس پر جب حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۴۹ اور ۱۵۰ سے ہمارے مناظر نے ثابت کیا کہ حضور اس جگہ خود اپنی تبدیلی عقیدہ کا اعتراف فرماتے ہیں۔تو غیر مبائع مناظر بہت گھبرایا اور آخر تک اس حوالہ کو نہ چھوا۔ہاں بہکی رٹ لگاتا رہا کہ حضرت صاحب امتی نبی بمعنی محدث ہی ہیں۔اس پر مولوی ابوالعطاء صاحب نے حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۸ سے ثابت کیا کہ حضور فرماتے ہیں اُمتی نبی ایک ہی ہوا ہے۔اور حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۹ سے ثابت کیا کہ صلحاء امت محمدیہ میں تیرہ سو سال کے عرصہ میں صرف اپنے تئیں ہی نبوت کا نام پانے کے لئے مخصوص قرار دیا ہے۔اس پر غیر مبائع مناظر نے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی میں امتی بی صرف مسیح موعود علیہ السلام کو قرار دیا گیا ہے ورنہ یوں سب محد ثین آپ کی طرح " امتی نبی ہیں۔اس پر ابو العطاء صاحب نے حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۹۰ کی وہ عبارت پیش کی جو دوسرے صلحاء کے متعلق ہے کہ خدا تعالیٰ کی مصلحت نے ان بزرگوں کو اس نعمت کو پورے طور پر پانے سے روک دیا تا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہوگا وہ پیشگوئی پوری ہو جائے“۔یہ عبارت پیش کر کے کہا گیا کہ اس سے ظاہر ہے کہ دوسرے صلحائے امت کو نعمت نبوت کامل طور پر نہیں ملی مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کامل طور پر ملی ہے پس جو مقام نبوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملا ہے وہ امت محمدیہ میں حضور سے پہلے کسی محدث کو نہیں ملا۔