حیاتِ خالد — Page 215
حیات خالد 221 مناظرات کے میدان میں غیر مبائع مناظر اس کے جواب سے بالکل عاجز رہا اور ادھر ادھر کی باتوں میں وقت ضائع کرتا رہا غیر مبائع مناظر کی بے بسی اور دلائل سے تہی دستی کو محسوس کرتے ہوئے ان کے دو چار ساتھی درمیان میں بلا وجہ بول پڑتے اور شور مچانے کی کوشش کرتے۔مندرجہ بالا ہر دو مضامین پر مولوی احمد یار صاحب مناظر غیر مبائعین نے جب مناظرہ کر کے دیکھ لیا کہ جماعت احمدیہ سے مناظرہ کرنا آسان کام نہیں اور خود غیر مباکین نے بھی اپنے مناظر کی کمزوری کو محسوس کر لیا تو تیسرے موضوع پر مناظرہ کرنے کیلئے بھری مجلس میں یہ اعلان کرنے کے باوجود کہ تینوں مضامین پر مناظرہ کریں گے ، مناظرہ کرنے کیلئے نہ آئے۔ہم نے اپنا آدمی بھی وقت پر بھیجا۔تو غیر مساکین نے کہلا بھیجا کہ وہ مناظرہ کیلئے تیار نہیں۔مجلس مناظرہ میں کچھ غیر احمدی بھی شامل ہوئے تھے جنہوں نے جناب مولوی ابو العطاء صاحب کی علمی قابلیت اور صحیح اور شستہ حاضر جوابی کی تعریف کی اور غیر مبائع مناظر کی بے بسی ، بے علمی اور کم حوصلگی کو بھی محسوس کر کے اس کا ذکر کرتے تھے۔خاکسار - خواجہ محمد شریف۔جنرل سیکرٹری جماعت احمدیہ گوجرانوالہ الفضل ۹ راپریل ۱۹۴۰ء صفحه ۶ نمبر ۷۹ جلد ۲۸) موضع غازی کوٹ میں جماعت احمدیہ کا پہلا جلسہ اور مناظرے گورداسپور سے تین میل کے فاصلہ پر ایک گاؤں غازی کوٹ ہے جہاں چند احمدی ہیں۔۱۶،۱۵ مر جون ( ۱۹۴۰ء) کو یہاں پہلا تبلیغی جلسہ منعقد ہوا۔مرکز سے بہت سے علماء کے علاوہ جناب ناظر صاحب اعلیٰ اور جناب ناظر صاحب دعوة و تبلیغ بھی تشریف لے گئے۔قادیان سے سینکڑوں احباب جن میں کثرت خدام الاحمدیہ کی تھی سائیکلوں پر ، ریل گاڑی پر نیز پیدل وہاں پہنچے۔بورڈنگ تحریک جدید کے سینئر طلباء لاری کے ذریعہ گئے۔اٹھوال، ونجواں ، گورداسپور اور علاقہ بیٹ کی جماعتیں بھی جلسہ میں شمولیت کی غرض سے وہاں پہنچ گئی تھیں اور اس طرح اوسط حاضری چھ سات سو ہو گئی۔ہمارے جلسے کا اعلان شائع ہونے کے کئی روز بعد احرار نے بھی انہی ایام میں وہاں اپنے جلسہ کا اعلان کر دیا اور ہماری جلسہ گاہ کے بالکل پاس ہی اپنا پنڈال تجویز کیا اور لال حسین اختر صاحب کو جو اپنی زبان کے لحاظ سے کوئی اچھی شہرت نہیں رکھتے تھے وہاں بلایا۔جلسہ کے انتظام کیلئے مجسٹریٹ صاحب علاقہ نیز انسپکٹر صاحب پولیس معہ مسلح گارڈ وہاں دونوں روز موجود ہے۔