حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 198 of 923

حیاتِ خالد — Page 198

حیات خالد 204 مناظرات کے میدان میں صاحب شریعت جدیدہ ہونے کے دعویدار ہیں تو اس نبوت کے بعد ان کا آنحضرت ﷺ سے کوئی تعلق نہیں رہتا تو میں نے جھٹ اس کی اپنی کتاب ”ترک مرزائیت سے مندرجہ ذیل عبارت پڑھ دی جس پر اسے پہلو بدلنا پڑا۔مرزا صاحب مدعی نبوت تو ہیں لیکن کوئی نئی شریعت نہیں لائے اور نہ انہیں نبوت بلا واسطہ ملی ہے۔بلکہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور وساطت سے نبی بن گئے ہیں اور مرزا صاحب کی اصطلاح میں یہی ظلی یا بروزی نبوت ہے۔(صفحه ۳۴) ان تمام امور کے علاوہ ایک خاص قابل ذکر بات یہ ہے کہ میں نے مولوی لال حسین صاحب کو مناظرہ سے پہلے اس کے درمیان اور اس کے اخیر پر نہایت تحدی سے دعوت دی کہ ہر دو مناظر بھی مباہلہ میں شامل ہوں مگر وہ اس کے لئے بالکل تیار نہ ہوئے۔جس کا سمجھدار طبقہ پر بہت اچھا اثر تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بخیر مناظرہ کے بعد خلاف شریعت شرط کے تصفیہ سے انکار و خوبی مناظرہ ختم ہو گیا اور جماعت احمدیہ کے دس افراد کی بجائے تمام موجودہ افراد نے جو چالیس سے زیادہ تھے مباہلہ پر کامل آمادگی ظاہر کی۔اور میں نے کھڑے ہو کر کہا کہ اب مناظرہ ختم ہوتا ہے۔ہماری دونوں فریق کی تحریری شرط کے مطابق اب اس خلاف شریعت شرط کا فیصلہ کر لیا جائے اور میں اپنے دعوئی کی دلیل پیش کرتا ہوں۔اس پر مولوی لال حسین اور ان کے ہمنواؤں نے شور مچا دیا کہ ہم آپ سے گفتگو کرنے کیلئے تیار نہیں۔یہ گفتگو مباہلہ کرنے والوں میں سے کوئی کرے۔بہت سمجھایا گیا آخر سر دارا میر محمد خان صاحب نے اٹھ کر اعلان کیا کہ مولوی صاحب ہمارے نمائندہ ہیں۔شریعت کی رو سے بحث ہے اس لئے ان سے ہی بحث کی جائے ورنہ آپ لوگوں کی کھلی شکست ہوگی۔لیکن ان لوگوں نے ایک نہ مانی اور اسی نہیں نہیں میں جلسہ ختم کر کے چلتے بنے۔ایک غیر احمدی مولوی صاحب نے مجھ سے گفتگو پر آمادگی ظاہر کی لیکن ان کو فوراً چپ کرا دیا گیا اور اعلان کر دیا گیا کہ یہ ہمارا نمائندہ نہیں۔" غیر احمدیوں کے اس کھلے فرار پر ان میں رات کو چہ میگوئیاں ہوتی رہیں اور مباہلہ کی کارروائی دیو بندیوں اور بریلویوں کا اختلاف ہو گیا۔صبح جب ہم وہاں سے واپس روانہ ہو رہے تھے تو اجمل خان صاحب ملغانی کی طرف سے پیغام ملا کہ اب ہم بجائے دس کے صرف پانچ آدمی مباہلہ کے لئے تیار ہیں اور اس خلاف شریعت شرط کو منسوخ قرار دینے پر رضا مند۔جب