حیاتِ خالد — Page 193
حیات خالد 199 مناظرات کے میدان میں فریقین پر عذاب پڑے تو جس فریق کے زیادہ آدمی مبتلا ہوں گے وہی کا ذب و جھوٹا تصور ہوگا۔دستخط کنندگان از جماعت احمدیہ: - (1) سردار امیر محمد خان سر براہ تمندار قیصرانی (۲) مولوی گل محمد نتکانی مدرس۔(۳) سردار فیض اللہ خان ملکانی دستخط کنندگان از اهل سنت :- (1) سید محمد بخش شاہ سوکروی (۳) محمد اجمل ملغانی بلوچ (۲) حکیم اللہ بخش ولد مولوی احمد سکنہ تو نسه ان شرائکہ کے علاوہ فریقین نے تحریری طور پر ایک دوسرے کو لکھ دیا کہ غیر احمدیوں میں سے خصوصیت کے ساتھ سید محمد بخش شاہ صاحب اور احمدیوں میں سے خصوصیت کے ساتھ سردار امیر محمد خان صاحب قیصرانی کا مباہلہ میں شامل ہونا اور اتمام حجت کے وقت موجود ہونا از بس ضروری ہے۔حتی کہ اگر کوئی ان دونوں صاحبان میں سے بوجہ معذوری تاریخ مقررہ پر حاضر نہ ہو سکے تو تاریخ مباہلہ کو بدل کر پیچھے کر دیا جائے۔پھر ایک اور شرط جو دونوں فریق کے صدر صاحبان کے دستخطوں سے لکھی گئی یہ تھی کہ بوقت تبادلہ خیالات معدودے چند اشخاص جن میں مباہلہ کرنے والے، دونوں مناظر اور صدر وغیرہ شامل تھے موجود ہوں گے۔باقی کوئی فرد موجود نہ ہوگا“۔یہ تمام شرائط ہماری جماعت کے دوستوں نے اپنی ذمہ واری پر خود طے کیں ایک غلطی کی اصلاح اور بعد ازاں بغرض منظور سیدنا امیر المومنین حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں ارسال کئے۔حضور نے مباہلہ کی شرط نمبر ۵ میں سے فقرہ " اور اگر ہر دو فریق مذکورہ بالا عذاب و امراض وغیرہ مذکورہ بالا سے محفوظ رہ جاویں تب بھی احمدی جھوٹے تصور ہوں گے کو خلاف شریعت قرار دیتے ہوئے کیونکہ مباہلہ میں عام حالات میں مساوی شرائک ضروری ہیں ارشاد فرمایا کہ اس حصہ کو حذف کر دیا جائے اور پھر شریعت کے مطابق مباہلہ ہوا یسی ناجائز شرما کا تسلیم کرنا اور کرانا غلطی ہے۔ظاہر کے زیارے احمدی بھائیوں کا اس شرط کو تسلیم کر لینا اگر چہ قانون مباہلہ کی پوری واقعیت پر دلالت نہیں کرتا لیکن ان اکیا شبہ ہے کہ یہ امر ان کے صداقت احمدیت پر کامل یقین اور پورے وثوق کا زبر دست گواہ ہے۔میں ایک یہ غلطی بھی کسی پیاری اور بھلی معلوم ہوتی ہے ان کے جوش ایمانی۔پس ان ہے