حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 194 of 923

حیاتِ خالد — Page 194

حیات خالد 200 مناظرات کے میدان میں میں ان سے یہ بات نظر انداز ہو گئی کہ ہو سکتا ہے کہ دشمنوں پر ابھی تک اللہ تعالی کے علم میں اتمام حجت نہ ہوئی ہو وہ اپنی جہالت یا کم علمی کے باعث ابھی دنیا میں خارق عادت عذاب کے مستحق نہ ہوں۔کیونکہ بجز اس صورت کے کہ کوئی شخص سمجھتے اور جانتے ہوئے باوجود اتمام حجت کے محض شرارت کی راہ سے دنیا کو گمراہ کرنے کیلئے کسی صادق کے بالمقابل یا مفتری کی تائید میں لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ ہے۔عام مکفرین و مکذبین کی سزا اور فیصلہ کیلئے قیامت کا دن مقرر ہے اور کوئی شخص خدا تعالیٰ کے قانون میں دخل نہیں دے سکتا۔یقیناً احباب جماعت کی یہ غلطی بھی اہل ذوق کو لذت دے رہی تھی لیکن جب حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد دوستوں نے پڑھا اور جس طرح نہایت شرح صدر سے اس کی تعمیل کی اس میں بھی اہل بصیرت کیلئے بہت بڑا سبق ہے۔مورخه ۲۶ را پریل ۱۹۳۶ء کوعلی الصبح خاکسار چوہدری محمد شریف صاحب مولوی فاضل ، مولوی عبدالرحمن صاحب ،مبشر ، جناب سردار امیر محمد خان صاحب اور دیگر معززین احباب جماعت بہیرو شرقی گاؤں میں پہنچے تا کہ مناظرہ اور از روئے شریعت اسلامیہ مباہلہ سرانجام دیا جائے۔غیر احمدیوں کی طرف سے ایک انبوہ عظیم جمع تھا۔سب سے پہلے غیر احمد ی صدر اور دیگر لوگوں نے باصرار اس شرط کو اڑانے کے لئے کہا جس میں لکھا تھا کہ بجز مقررہ لوگوں کے دوسرے کسی شخص کو آنے کی اجازت نہ ہوگی۔ہم نے ان کی اس بات کو منظور کیا اور گفتگو شروع ہوئی۔اخویم سردار امیر محمد خان صاحب نے نہایت زور دار الفاظ میں کہا کہ ہم مناظرہ اور مباہلہ کیلئے تیار ہو کر آگئے ہیں۔لیکن چونکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ کی رو سے مباہلہ کریں اور شرط نمبر ۵ کا ایک حصہ شریعت کے خلاف ہے اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ اس حصہ کو منسوخ کر دیا جائے تا کہ شرعی مباہلہ قرار پائے۔غیر احمد یوں نے کہا کہ آپ نے پہلے اس شرط کو کیوں تسلیم کیا تھا۔سردار صاحب نے کہا کہ ہم سے شریعت کے باریک قوانین کی عدم واقفیت کے باعث غلطی ہوئی جسے ہم تسلیم کرتے ہیں۔ہمارے امام کا ارشاد یہی ہے کہ ہم اس غلطی کا اقرار کر کے شریعت کے مطابق مباہلہ کریں۔سواگر آپ لوگ اس کے لئے تیار ہیں تو ہم پہلے سے ہی تیار ہو کر آئے ہیں۔اس پر غیر احمدیوں کا مناظر مولوی لال حسین بول اٹھا کہ ہمارے نزدیک یہ شرط شریعت کے مطابق ہے۔تب میں نے کہا کہ بہت اچھا ابھی فیصلہ ہو جاتا ہے۔میں نے یہ کہہ کر اس کے خلاف شریعت ہونے پر تقریر شروع کر دی۔میں نے اپنی چند ہی باتیں بیان کی تھیں کہ غیر احمدی مناظر کہنے لگا کہ آپ تو دلائل دیتے ہیں اس کی ضرورت نہیں جس سے لوگوں پر اس کے پہلو کی کمزوری عیاں