حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 162 of 923

حیاتِ خالد — Page 162

حیات خالد 168 مناظرات کے میدان میں بد و ملهوی ، حضرت حافظ مولانا غلام رسول صاحب وزیر آبادی کو بھی خاکسار نے دیکھا۔جماعت احمد یہ سیالکوٹ کا تبلیغی جلسہ منعقد ۲۶۰ لغایت ۳۰ /اکتوبر ۱۹۲۹ء الفضل قادیان میں اس کی جو رپورٹ شائع ہوئی وہ درج ذیل ہے:۔خدا تعالیٰ کا بے حد شکر و احسان ہے جس نے امسال پھر محض اپنے فضل کے ماتحت جماعت احمدیہ شہر سیالکوٹ کو سالانہ تبلیغی جلسہ کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔الحمد لله علی ذالک - برجله ۲۶ اکتوبر ۱۹۲۹ء بروز ہفتہ ۴ بجے دوپہر سے شروع ہوا اور مورخہ ۳۰ را کتوبر ۱۹۲۹ء مغرب کے وقت اختتام کو پہنچا۔دوسرے روز یعنی ۱/۲۷اکتو بر ۱۹۲۹ء کی صبح کو ایک لمبی خط وکتابت کے ختم نبوت پر مناظرہ مطابق جو ہمارے اور شیخ مولا بخش صاحب بوٹ مرچنٹ غیر مبائع کے درمیان عرصہ پانچ ماہ سے ہو رہی تھی مسئلہ ختم نبوت کی حقیقت پر مناظرہ شروع ہوا۔ہماری جانب سے مولوی اللہ و تا صاحب جالندھری مولوی فاضل اور فریق ثانی کی طرف سے میر مدثر شاہ صاحب مناظر تھے۔پہلی تقریر مدعی کی حیثیت سے جناب مولوی اللہ دتا صاحب فاضل نے فرمائی۔جس میں 9 آیات قرآنیہ اثبات اجرائے نبوت میں معد استدلال و معانی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بطور دلائل پیش کیں۔جس میں سے کسی ایک کو بھی میر مدثر شاہ صاحب نے مطلقا نہ چھوا اور چھوتے بھی کس طرح جب کہ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے خودان آیات سے امکان نبوت کو ثابت کیا ہے۔میر مدثر شاہ صاحب نے جب دیکھا کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں جو مولوی اللہ دتا صاحب کے دلائل قاطعہ کو توڑ سکے تو انہوں نے سوائے اس کے کوئی چارہ نہ دیکھا کہ اپنا پہلو بدلیں اور اصل موضوع کو چھوڑ کر دوسرے موضوع کی طرف آئیں۔چنانچہ مسئلہ ختم نبوت سے جو کہ اصل میں زیر بحث فریقین تھا اور پانچ ماہ کی خط و مسیح نبوت مسیح موعود استابت سے فریقین میں طے پا چکا تھا پہلو تہی کر کے نبوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بحث شروع کر دی۔باوجود اس کے کہ ہماری طرف سے جماعت احمدیہ کا تبلیغی ہفتہ کے عنوان سے جو اشتہار شائع ہوا تھا۔اس میں غلطی سے یہ شائع ہو گیا تھا کہ لاہوری پارٹی سے نبوت