حیاتِ خالد — Page 163
حیات خالد 169 مناظرات کے میدان میں حضرت مرزا صاحب پر مناظرہ ہوگا تو اس پر شیخ مولا بخش صاحب نے لکھا۔آپ کا اشتہار جو جا بجا لگایا گیا میں نے پڑھا میں نہایت متعجب ہوا کہ اس میں واقعات صریح کے برخلاف لکھا ہوا ہے کہ ہماری جماعت اور آپ کے درمیان برائے مناظر و نبوت مسیح موعود علیہ السلام پر محط و کتابت ہو رہی ہے جو ایک ظلم عظیم ہے۔اگر یہ دانستہ لکھا گیا ہے تو بالکل غلط ہے اور اگر کاتب کی غلطی ہے تو غالباً قابل معافی ہوگا۔بہر حال اس کی اصلاح فوری نہایت ضروری ہے اور آپ خود ایک اشتہار دے کر اس دھو کے سے پبلک کو بچالیں۔( چٹھی مورخہ ۱۹۲۹۔۱۰۔۲۵) چنانچہ ہماری طرف سے فورا ایک چھوٹا سا اشتہار بعنوان غلطی کا ازالہ شائع ہوا۔لیکن دروغ گورا حافظہ نہ باشد یا تو ان کو یہ اپنا لکھا ہوا یاد نہ رہا۔یا پھر انہوں نے اپنی کمزوری محسوس کرتے ہوئے اصل مضمون کو ترک کر کے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت کے متعلق مناظرہ شروع کر دیا۔مگر ہم نے اس بات کی مطلقا پر واہ نہ کرتے ہوئے کہ اصل مسئلہ زیر بحث ختم نبوت ہے نبوت صحیح موعود علیہ السلام پر بحث شروع کر دی تا پبلک کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ لوگ کتنے پانی میں ہیں۔مگر جب انہوں نے دیکھا اس طرح بھی پیچھا نہیں چھوٹتا تو ایک اور چال چلی اور وہ یہ کہ ایک ٹریکٹ بعنوان اظہار عقائد قادیانیہ تقسیم کرنا شروع کر دیا جس سے ہل چل مچ گئی اور اس طرح انہوں نے اپنی و طرف سے علمیت ، قابلیت اور حقانیت کا مظاہرہ کیا۔پھر اسی پر اکتفاء نہ کیا بلکہ لوگوں میں ہماری طرف سے نفرت پیدا کرنے کی مسئلہ کفر و اسلام خاطر ہمارے خلاف اشتعال دلانے کے لئے یہ کیا کہ ایک غیر احمدی صاحب کو جو قریب انہی کا ہم خیال ہے مخفی طور پر کہا کہ ہمیں کفر و اسلام پر مناظرہ کرنے پر آمادہ کرے۔چنانچہ جب پروگرام کا پہلا حصہ گذر گیا تو صاحب مذکور نے کھڑے ہو کر کہا کہ ہم نبوت مرزا صاحب کے متعلق کچھ نہیں سننا چاہتے بلکہ کفر و اسلام کے متعلق ہم چاہتے ہیں کہ مناظرہ ہو۔غیر مبائعین نے معہ اپنے صدر کے متفقہ طور پر با آواز بلند ضرور ضرور کہ کر شور مچادیا اور کیوں نہ ایسا کہتے جبکہ تحریک انہی کی طرف سے تھی۔مگر سید عبد السلام صاحب امیر جماعت احمد یہ شہر سیالکوٹ نے جو کہ ہماری طرف سے صدر تھے فرمایا اگر چه فریقین میں یہی طے ہوا ہے کہ مسئلہ ختم نبوت کے متعلق مناظرہ ہومگر کچھ مضائقہ نہیں جس طرف فریق ثانی چلے گا اسی طرف ہم اس کا تعاقب کریں گے۔پہلے تو بحث ختم نبوت پر شروع ہوئی تھی۔جب ان سے کچھ بن نہ آیا تو نبوت حضرت مسیح موعود