حیاتِ خالد — Page 153
حیات خالد 159 مناظرات کے میدان میں حسب ذیل عبارتیں پیش کی تھیں جس کا اخیر وقت تک کوئی جواب نہ دیا گیا بلکہ میر صاحب نے تو ان کو چھوا تک بھی نہیں۔کیا پیغامی راوی حلفیہ گواہی دے گا کہ یہ حوالہ جات بار بار پڑھے نہ گئے تھے اگر پڑھے گئے تھے تو اجرائے نبوت میں ان کا کیا جواب دیا گیا تھا۔فائدہ عام کی خاطر میں اجرائے نبوت کے متعلق حضرت مسیح موعود کے حوالے مشتے از خروارے کے طور پر ان کو درج ذیل کرتا ہوں اور دیکھنا چاہتا ہوں کہ اہل پیغام مل کر بھی ان کا کوئی جواب دے سکتے ہیں۔(۱) وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ یعنی آنحضرت ﷺ کے اصحاب میں سے ایک اور فرقہ ہے جو ابھی ظاہر نہیں ہوا۔یہ تو ظاہر ہے کہ اصحاب وہی کہلاتے ہیں جو نبی کے وقت میں ہوں اور ایمان کی حالت میں اس کی صحبت سے مشرف ہوں اور اس سے تعلیم اور تربیت پاویں۔پس اس سے ثابت صلى الله۔ہوتا ہے کہ آنے والی قوم میں ایک نبی ہوگا کہ وہ آنحضرت ﷺ کا بروز ہوگا اس لئے اس کے اصحاب آنحضرت ﷺ کے اصحاب کہلا ئیں گے اور جس طرح صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے رنگ میں خدا تعالی کی راہ میں دینی خدمتیں ادا کی تھیں وہ اپنے رنگ میں ادا کریں گے۔بہر حال یہ آیت آخری زمانہ میں ایک نبی کے ظاہر ہونے کی نسبت ایک پیشگوئی ہے“۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفه ۵۰۲) (۲) خدا تعالی نے قرآن شریف میں ایک جگہ (کہف رکوع : الناقل ) یہ بھی فرمایا تھا کہ آخری زمانہ میں مذاہب کے جنگ ہونگے اور دریا کی لہروں کی طرح ایک مذہب دوسرے مذہب پر گرے گا تا اس کو نابود کر دے اور لوگ اسی جنگ و جدال میں مشغول ہوں گے کہ اس فیصلہ کے کرنے کیلئے خدا آسمان سے قرنا میں اپنی آواز پھونکے گا۔وہ قرنا کیا ہے؟ وہ اس کا نبی ہو گا جو اس کی آواز کو پاکر اسلام اور توحید کی طرف لوگوں کو دعوت کرے گا پس یقیناً سمجھو کہ وہ یہی دن ہیں جو خدا کے دن کہلاتے ہیں۔اگر مجھ سے ٹھٹھا کیا گیا تو یہ نئی بات نہیں۔دنیا میں کوئی رسول نہیں آیا جس سے ٹھٹھا نہیں کیا گیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۳۲ صفحه ۳۳۴) (۳) قرآن شریف میں یہ بھی پیشگوئی ہے۔وَإِنْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمٍ الْقِيَامَةِ أَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيدًا یعنی کوئی ایسی بستی نہیں جس کو ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں گے یا اس پر شدید عذاب نازل نہ کریں گے۔یعنی آخری زمانہ میں ایک سخت عذاب نازل ہوگا اور