حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 139 of 923

حیاتِ خالد — Page 139

حیات خالد 145 مناظرات کے میدان میں ۳۰ جولائی ۱۹۲۹ء۔مولوی اللہ دتا صاحب جالندھری آریہ سماج سے مناظرہ کے روانگی جموں لئے جموں روانہ ہوئے۔عنوان مدینہ المسیح) الفضل قادیان : ۲ را گست ۱۹۲۹ء صفحه ا: کالم نمبر : زیر عنوان صفحا: ۲۶ جولائی ۱۹۲۹ء آریہ بودک سماج دینا نگر کے جلسہ دینا نگر میں آریہ سماج سے مناظرہ پر آریہ سماج اور جماعت احمدیہ کے درمیان مناظرہ قرار پایا تھا۔اس لئے متعدد اصحاب قادیان سے مناظرہ دیکھنے کیلئے گئے۔مضمون زیر بحث یہ تھا کہ اسلامی عبادت بہتر ہے یا ویدک - آریہ سماج نے پنڈت رامچند رصاحب دہلوی کو اپنی طرف سے مناظر مقرر کیا اور جماعت احمدیہ کی طرف سے مولوی اللہ دتا صاحب فاضل جالندھری تھے۔اگر چہ شرائط کے مطابق مناظرہ تین بجے شروع ہو جانا چاہئے تھا لیکن بہت سا وقت مہاشہ چرنجی لال صاحب پریم کی کج ادائیوں کی نذر ہو گیا جو سوء اتفاق سے صدر قرار پا چکے تھے۔پریم جی کی ہزار کوشش وسعی کے باوجود پہلی تقریر آریہ مناظر کو ہی کرنی پڑی۔جس میں آپ نے بتایا کہ سندھیا بہت اچھی عبادت ہے کیونکہ اس کی ادائیگی میں کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور اسلامی نماز میں بار بار اٹھنا بیٹھنا پڑتا ہے۔جس سے یکسوئی اور توجہ قائم نہیں رہ سکتی۔اس کے علاوہ اسلامی نماز میں محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) و دیگر انبیاء کیلئے دعا کی جاتی ہے لیکن سندھیا خالص تو حید کی حامل ہے۔مولوی صاحب نے اپنے وقت میں اسلامی عبادات یعنی نماز ، روزہ، حج ، زکوۃ کو بالتفصیل بیان کرنے اور ان سب کی فلاسفی وضاحت سے حاضرین کے ذہن نشین کرنے کے بعد پنڈت جی کے اس اعتراض کے جواب میں کہ نماز میں اٹھنے بیٹھنے سے یکسوئی قائم نہیں رہتی و یدک دھرم کی عبادت کے متعلق ستیارتھ پرکاش کا حسب ذیل حوالہ پڑھا :- جیسے سخت زور سے قے ہو کر کھایا پیا با ہر نکل جاتا ہے ویسے دم کو زور سے باہر نکال کر حسب طاقت باہر ہی روک دینا چاہئے لیکن جب دم با ہر نکالنا ہو تو مول اندر یہ کو اس وقت تک اندر کھینچ رکھنا چاہئے جب تک کہ دم باہر رہتا ہے۔اسی طریق سے دم باہر زیادہ ٹھہر سکتا ہے۔جب گھبراہٹ ہو تب آہستہ آہستہ ہوا اندر لے کر پھر بھی جس قد ر طاقت اور خواہش ہو ویسا ہی کرتا جائے“۔(صفحہ ۴۵) پھر سندھیا کا طریقہ ستیارتھ پرکاش سے سنایا۔جس میں لکھا ہے :-