حیاتِ خالد — Page 100
حیات خالد 106 مناظرات کے میدان میں شب میں ایک لمحہ کیلئے نہ سو سکا۔مناظرہ کے نوٹ تیار ہو گئے اور دعا سے طمانیت حاصل ہوگئی۔نماز فجر کے بعد قادیان سے جواب لیکر آدمی آیا۔اس کے ہاتھ میں بند لفافہ تھا اور اس کے ساتھ مترجم قرآن مجید اور چند دوسری مطلوبہ کتب تھیں۔ڈاکٹر صاحب اور احباب بہت بیتاب تھے۔لفافہ کھولا گیا۔لکھا تھا کہ عام حالات میں مناظرہ کرنے کی اجازت نہیں البتہ اگر وہاں کے حالات ایسے ہوں کہ مناظرہ لازمی ہوتو ابوالعطاء کو فیصلہ کرنے کی اجازت ہے وہی مناظرہ کریں مرکز سے کسی اور مناظر کو بھیجنے کی ضرورت نہیں۔آخر یہی قرار پایا کہ آریوں سے مناظرہ کیا جائے۔ہر دو مناظرے آریوں کے پنڈال میں ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہایت کامیاب ہوئے۔مجھے یاد ہے کہ اس مناظرہ میں قادیان کے غیر احمدی میاں مہر دین صاحب آتشباز بھی موجود تھے کیونکہ وہ اس علاقہ کے اصل باشندے تھے۔مناظرہ کے بعد اور لوگوں کے ساتھ وہ بھی پھولوں کے ہار لائے اور مجھے پہنائے اور کہنے لگے کہ قادیان میں مخالفت اور ہے مگر آج تو آپ لوگوں نے اسلام کی عزت رکھ لی ہے۔دونوں مناظرات میں پنڈت دھرم بھکشو کی ناکامی نمایاں تھی۔جنت کے موضوع پر خطرہ تھا کہ وہ بدزبانی کریں گے مگر قرآن مجید کی شرط کی سختی سے پابندی کرائی گئی اور میں نے پہلی تقریر میں ہی اسلامی نقطہ نگاہ سے جنت کی کیفیت اور اس کی نعمتوں کی حقیقت کا تفصیلی ذکر کر دیا تھا جس پر اٹھتے ہی ان کے منہ سے نکلا کہ اس بیان پر تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہمیں تو جنت کے اس تصور پر اعتراض ہے جسے عام مسلمان بیان کرتے رہتے ہیں بہر حال بڑا دلچسپ اور پُر لطف مناظرہ تھا۔ایک لطیفہ خاص طور پر قابل ذکر ہے جب میں نے حوروں کی حقیقت کے سلسلہ میں آیت قرآنی ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَ أَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ (الزخرف: اے ) مومن مرد اور ان کی مومنہ بیویاں ہر قسم کے ظاہری و باطنی عیب سے پاک ہو کر اور ہر پہلو سے خوبصورت ہو کر جنت میں جائیں گے تو پنڈت دھرم بھکشو نے اعتراض کیا کہ ان کا حسن کیسا ہوگا، کیا وہ لندن یا پیرس کی لیڈیوں کی طرح ہوں گی ؟ میں نے کہا کہ آپ نے بھارت کی دیویوں کو کیوں شامل نہیں کیا ؟ ہمیں تو یہ بتایا گیا ہے کہ جنت کی نعمتوں کی پوری کیفیت ہمارے یہاں کے اور اک سے بالا ہے۔فرمایا فلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أَخْفِى لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ اغين (السجدہ: ۱۸) کہ کوئی انسان اس دنیا میں پوری طرح نہیں جان سکتا کہ اس کیلئے اگلے جہان میں کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک مقدر ہے۔پھر میں نے تفصیل سے بتایا کہ پنڈت صاحب اس قسم کی باتیں صرف اس لئے کر رہے ہیں کہ ویدک دھرم کی رو سے عورت کیلئے نجات نہیں ہے اور کوئی ہندو عورت