حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 101 of 923

حیاتِ خالد — Page 101

حیات خالد 107 مناظرات کے میدان میں سورگ میں نہیں جائے گی۔میں نے کہا کہ اگر پنڈت جی کے نزدیک ہند و عورتیں سورگ میں جاسکتیں تو انہیں مسلمان عورت کے جنت میں داخل ہونے پر ہر گز اعتراض پیدا نہ ہوتا اور اگر ہند و عورتیں سورگ ( بنت ) میں نہیں جاسکتیں جیسا کہ آریوں کا عقیدہ ہے (میں نے ستیارتھ پرکاش کا ایک حوالہ بھی اس بارے میں پڑھا ) تو اب میں تمام ہندو بہنوں سے ( اس جلسہ گاہ میں صد ہا ہند و عورتیں مناظرہ سننے کیلئے بیٹھی تھیں ) اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس زندہ مذہب کو قبول کر لیں جو یہ اعلان کرتا ہے کہ نیک انسان مرد ہوں یا عورتیں سب ابدی جنت میں جائیں گے اور اس دھرم کو تیاگ دیں جو عورتوں کیلئے سورگ میں جانے کا راستہ بند قرار دیتا ہے اس پر زور اپیل کے ساتھ ہی میں نے آریہ صاحبان سے بھی کہا کہ اگر آپ لوگوں کو اپنی جانوں پر رحم نہیں آتا تو کم از کم اپنی ماؤں، بہنوں ، بیویوں اور بچیوں پر تو رحم کریں ان کیلئے ہندو دھرم میں مکتی کا راستہ محدود ہے وہ سورگ میں نہیں جاسکتیں ان کو اسلام میں داخل کرا دیں کیونکہ قرآن مجید کھلے بندوں اعلان کر رہا ہے مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ (المومن: ۴۱) کہ نیک اعمال بجالانے والا مومن مرد اور نیک اعمال بجا لانے والی مومنہ عورت سب جنت میں داخل ہوں گے۔یہ حصہ تقریر ہندو عورتوں کیلئے خاص توجہ کا موجب بن رہا تھا ہند و مرد کافی پریشان نظر آتے تھے اور پنڈت دھرم بھکشو آخر دم تک اس سوال کا صاف جواب دینے سے عاجز رہے کہ آیا عورتیں سورگ میں جائیں گی یا نہیں ؟ انہیں اس کا صاف جواب دینے میں دونوں طرف مشکل نظر آ رہی تھی بہر حال ان مناظرات سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کی فتح نمایاں ہوگئی اور اپنوں اور بیگانوں نے اس کا اعتراف کیا۔میں یہ سطور ایک مختصر خاکہ کے طور پر لکھ رہا ہوں ورنہ جو واقعی کیفیت ہوتی تھی اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ دینا نگر کے مناظرہ کے قریباً ایک سال بعد ( یعنی قریباً ۱۹۲۶ء میں۔ناقل ) انہی مناظرہ امرتسر پنڈت دھرم بھکشوجی کے ساتھ صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے موضوع پر آریہ سماج مندر پشم بازار امرتسر میں مناظرہ ہوا جو پہلے مناظرہ سے بھی بڑھ کر شاندار اور تائید ایزدی کا نمایاں ثبوت تھا۔ہوا یوں کہ پنڈت دھرم بھکشو نے امرتسر میں کئی روز قیام کر کے علماء اسلام کو مناظرات کے چیلنج دیئے اور کئی مولوی صاحبان نے پنڈت صاحب سے مناظرے کئے۔پنڈت جی کی طراری اور اعتراضات کی بھر مار سے عام مسلمان بے چینی محسوس کرتے تھے۔آخر میں پنڈت جی نے