حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 9 of 923

حیاتِ خالد — Page 9

حیات خالد 9 با برکت کلمات تھی کہ قریشی صاحب مہمان آئے ہیں۔ان دنوں میں عملہ کی کمی کے باوجود مولانا صاحب نے اس کام کو بڑے احسن طریق پر چلایا اور ان دنوں میں ایک ایک ہفتے میں وقف عارضی کے جتنے وفود جاتے تھے آج کل شاید سال میں بھی نہ جاتے ہوں اور حضرت مولانا صاحب کی وجہ سے دفتر کا ماحول بھی بڑا خوش مزاج ہوتا تھا۔اپنے محلے میں بڑوں اور نو جوانوں کی تربیت کا بھی خیال رکھتے تھے۔شام کی چائے پر ملنے جلنے والے اکٹھے ہوتے تھے تو آپ ان سے گفتگو اور تربیتی باتیں کیا کرتے تھے۔اس کا ایک تجربہ مجھے بھی ہوا ہے، ایک دفعہ میں مکرم ارشد علی صاحب جو میرے کلاس فیلو اور مولانا صاحب کے ہمسایہ میں ہی تھے، کو ملنے گیا تو وہ کہنے لگے کہ میں مولانا صاحب کے گھر جا رہا ہوں تم بھی چلو۔خیر بے تکلفی میں میں بھی چلا گیا۔وہاں پہنچے تو ان کے بیٹھنے کے کمرے میں چائے اور لوازمات پڑے تھے۔مجھے خیال آیا یہاں تو دعوت ہے تو پتہ چلا کہ ایسی دعوتیں تو ہوتی رہتی ہیں۔اس مجلس میں دینی باتیں بھی ہو رہی تھیں۔بڑے بھی بیٹھے تھے اور نو جوان بھی کسی کو یہ احساس نہیں تھا کہ ایک بور مجلس ہے۔نوجوان بڑے بنے ہوئے تھے اور بڑے نوجوان بنے ہوئے تھے۔ہلکا پھلکا مزاح بھی تھا، گو میں ایسی مجلس میں ایک دفعہ ہی شامل ہوا لیکن مجھے بہت اچھا لگا۔ایک عجیب انداز تھا ان بزرگوں کی تربیت کا۔یہ تو علم تھا کہ حضرت مولانا صاحب عرب ممالک میں بطور مبلغ رہے ہیں۔لیکن بہت پہلے کی بات ہے، ہم نے تو جب بھی دیکھا حضرت مولانا صاحب کو ربوہ میں ہی دیکھا تھا۔ایگریکلچر یونیورسٹی فیصل آباد میں جب میں پڑھتا تھا تو ہم احمدی طلباء غیر از جماعت طلباء کو یا تو ربوہ لایا کرتے تھے یاد ہیں کسی گھر میں بزرگان کے ساتھ تبلیغی نشستیں کیا کرتے تھے۔ان میں الا یا حضرت مرزا طاہر احمد خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ بھی ہوتے تھے اور عرب طلباء کے ساتھ بات کرنے کے لئے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب مقرر ہوتے تھے۔پہلی دفعہ تو مجھے بڑی حیرت ہوئی جب میں نے دیکھا حضرت مولانا صاحب عربوں کے ساتھ ان سے بھی زیادہ روانی سے