حیاتِ خالد — Page 8
حیات خالد 8 با برکت کلمات بہر حال اس وقت کے بزرگوں پر جب آدمی نظر دوڑاتا ہے تو چند چیدہ بزرگوں میں ایک تصویر حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی اُبھرتی ہے۔پگڑی پہنے ہوئے ، موسم کی مناسبت سے ٹھنڈا یا گرم کوٹ زیب تن کئے، ہاتھ میں چھٹڑی ، پر سکون چہرہ، زیرلب دعائیں کرتے ہوئے ایک بزرگ چلے جا رہے ہیں۔سلام کا جواب دیں یا خود سلام کریں چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ فوری طور پر آجاتی تھی کبھی ٹانگے پر بیٹھے آرہے ہیں اور نظر آتا تھا کہ یہ تمام لوگ انسانوں کے روپ میں فرشتے ہیں۔جن کی دنیا کی طرف نظر کم ہے اور دین کی بہتری کیلئے سوچوں میں غرق ہیں۔لیکن اس کے باوجود ماحول سے لاتعلق نہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے جب وقف عارضی کی تحریک کا اعلان فرمایا تو جہاں تک مجھے یاد ہے حضرت مولانا صاحب کو اس کا پہلا ناظر مقرر فرمایا اور پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر میں ہی ایک طرف وقف عارضی کا دفتر ہوا کرتا تھا۔مجھے بھی کئی دفعہ وقف عارضی کرنے کی توفیق ملی۔اکثر ان کے دفتر جایا کرتا تھا۔جب بھی جاؤ ہنس کر بڑی خوش اخلاقی سے خوش آمدید کہتے تھے۔ایسا سلوک صرف مجھ سے یا میرے دوسرے عزیزوں سے ہی نہیں تھا کہ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فرد ہونے کی حیثیت سے یہ عزت اور احترام ہو۔یقیناً خاندان کے ہر بچے کیلئے ان کے دل میں بہت احترام تھا جس کا اظہار بھی ہوتا تھا۔بعض دفعہ لوگوں کے سامنے اس اظہار پر شرم بھی آجایا کرتی تھی، تو یہ احترام اور عزت تو ان کے دل میں تھا ہی لیکن دفتر میں آنے والے ہر فرد کے لئے عزت اور احترام تھا۔اس زمانے میں مکرم قریشی فضل حق صاحب جن کی گولبازار میں دوکان تھی، وہ روزانہ کچھ وقت دفتر وقف عارضی کو دیا کرتے تھے اور ان کے سپرد حضرت مولانا صاحب نے یہ ڈیوٹی لگا رکھی ہوئی تھی کہ جو بھی کوئی یہاں دفتر میں آئے اس کی موسم کی مناسبت سے مہمان نوازی کرنی ہے۔گرمیوں میں شربت اور سردیوں میں چائے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کا یہ حکم تھا اور اس کی پابندی ہوتی تھی۔آپ کا دفتر کیونکہ شروع میں ایک کمرہ ہی تھا، اس لئے مہمان کے دفتر میں داخل ہوتے ہی حضرت مولانا صاحب کی آواز آتی