حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 96 of 923

حیاتِ خالد — Page 96

حیات خالد 102 مناظرات کے میدان میں خاکسار راقم کے نزدیک پندرہ سولہ سال کی عمر میں جو بات بہت نمایاں تھی پہلے مناظرہ کا تجزیہ ومولانا کا تحریرفرمانا ہے کہ:- " وہ میر اعنفوان شباب تھا۔بلکہ اسے بچپن کا زمانہ ہی کہنا چاہئے۔مگر مجھے بہت اعتماد تھا که یه مولوی صاحبان کوئی جواب نہیں دے سکیں گے“۔اتنی چھوٹی عمر میں مولانا صاحب کا یہ فرمانا کہ ” مجھے بہت اعتماد تھا خاص غور کے قابل ہے۔یہ اعتماد تو بڑوں بڑوں کو اس سے دگنی عمر میں کہیں مشکل سے جا کے حاصل ہوتا ہے۔پھر اس اعتماد کی بنیاد کیا تھی؟ راقم کی رائے میں اس کی اولین بنیاد وہ ٹھوس ایمان تھا جو آپ کو اپنے والد ماجد سے وراثتا حاصل ہوا اور جس نے قادیان کی روحانی فضا میں چٹانوں جیسی مضبوطی اور استحکام پالیا۔لیکن اس کے علاوہ عملی زندگی میں کام آنے والی چیز سخت محنت اور اپنے کام کی طرف پوری اور غیر معمولی توجہ ہے۔اسی تحریر کا اگلا جملہ اس بات کو عیاں کر دیتا ہے۔حضرت مولانا لکھتے ہیں:۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے دلائل خوب یاد تھے اور حوالہ جات از بر تھے۔اگر اپنا کام پوری محنت سے کیا ہوا ہو تو اعتماد اللہ کے فضل و کرم سے خود ہی آ جاتا ہے۔بھر پور اور ٹھوس ایمانی کیفیت کے بعد جس چیز نے آپ کو اس کم عمری میں ہی اعتماد کی دولت سے مالا مال کر دیا تھا وہ تھی آپ کی سخت اور بھر پور محنت۔دین کی راہ کے مسافروں اور طالبعلموں کو یہ بات پلے باندھنی ضروری ہے کہ صرف ایمان کا استحکام ہی ضروری نہیں بلکہ اسے اپنی محنتوں اور کاوشوں سے صیقل کرنا بھی ضروری ہے۔اس کے بعد جو تیسری بات حضرت مولانا نے لکھی ہے وہ بھی دعوت الی اللہ کے میدان میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے۔حضرت مولا نا فرماتے ہیں:۔" تقریر میں بھی جوش اور روانی تھی۔تقریر میں یہ دونوں خوبیاں لازمی ہوتی ہیں اور یہ خوبیاں مشق کے بغیر نہیں آتیں۔دنیا بھر کے بڑے بڑے کامیاب آدمیوں کے حالات معلوم کیجئے تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے تقریر کی مہارت حاصل کرنے کیلئے خاص محنت کی۔حضرت مولانا بلا شبہ اس فن کے امام تھے۔آپ کی تقریر کا سب سے اہم پہلو آپ کی تقریر میں دریاؤں کی سی روانی تھی۔ایک کے بعد دوسرا جملہ یوں ہاتھ باندھے چلا آتا تھا کہ ایک لمحے کا وقفہ بھی درمیان میں محسوس نہ ہوتا تھا۔اکثر مقررین کی طرح آپ کو نہ تو بیچ میں مصنوعی کھانسی کی ضرورت پڑتی تھی اور نہ ہی سلسلہ کلام جوڑنے کیلئے اور ، اور یا " جو ہے وغیرہ کے بے معنی