حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 907 of 923

حیاتِ خالد — Page 907

حیات خالد 888 گلدستۂ سیرت تقریر کروادی۔مجھے یاد ہے کہ یہ نماز سولجر بازار کراچی میں ڈاکٹر حاجی خان صاحب مرحوم کے مکان پر ہوئی تھی۔ایک چھوٹے سے بچے کے منہ سے ایسی فصیح و بلیغ تقریرین کر احباب خوب متاثر ہوئے۔واہ واہ ہوئی اور اس دفعہ عیدی بھی کافی ملی۔لیکن اس کا جو اصل فائدہ ہوا وہ یہ تھا کہ مجمع میں تقریر کرنے کی جھجک جسے انگریزی میں Stage Fear کہتے ہیں۔ہمیشہ کیلئے دور ہو گئی۔عید یاں تو اسی وقت خرچ ہو گئیں۔مگر اس اثاثہ نے ساری عمر ساتھ دیا۔تربیت کا آغاز چونکہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی تصنیف سے ہوا۔اس لئے چاہا کہ اس کا بھی ذکر کرتا چلوں۔تمہیمات ربانیہ یعقوب پٹیالوی کی کتاب " عشرہ کاملہ کے جواب میں لکھی گئی تھی اور سلسلہ احمدیہ کے لٹریچر کا اہم حصہ ہے۔حضرت مولانا صاحب سے خاکسار کی پہلی بالمشافہ ملاقات غالباً ۱۹۳۶ء میں ہوئی تھی۔آریہ سماج سے ایک مناظرہ طے ہوا تھا۔جس میں ہماری طرف سے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب اور دوسری طرف سے رام چندر دہلوی مناظر تھے۔پنڈت رام چندر پہلے مسلمان ہوتے تھے۔پھر مرتد ہو گئے۔اور ویدوں کی تعلیم حاصل کر کے آریہ سماج کے قابل ترین مناظر بن گئے۔دہلی کی ٹکسالی زبان میں بہت اچھی اردو بولتے تھے۔اور حاضرین میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہو تو اللہ کو پر میشور نہیں بلکہ موقع محل کی مناسبت سے اللہ جل شانہ" کہتے تھے۔اور ان کی زبان دانی سے مسلمان سامعین خاص طور پر متاثر ہو جاتے تھے۔مناظرے کی تاریخ سے ایک دو روز قبل حضرت مولانا صاحب کراچی تشریف لے آئے تھے۔اس وقت انجمن احمد یہ کراچی کا دفتر بولٹن مارکیٹ کے علاقے میں ایک کرایہ کے مکان میں ہوتا تھا اور نمازیں بھی وہیں ہوتی تھیں۔حضرت مولانا صاحب کا قیام دفتر کے اوپر ایک بالا خانہ میں تھا۔جس دن مناظرہ تھا۔مولانا صاحب مجلس سے اٹھ کر اوپر بالا خانہ میں یہ کہہ کر چلے گئے۔کہ مجھے مناظرے کی تیاری کرنی ہے۔کچھ دیر بعد مجھے ایک پیغام لے کر اوپر بالا خانہ پر جانا پڑا۔کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جائے نماز بچھا کر سجدہ میں گرے ہوئے ہیں اور گڑ گڑا کر اللہ تعالی کے حضور حق کی فتح کے لئے دعا کر رہے تھے۔ہچکیاں بندھی ہوئی تھیں۔اس حالت میں نہ تو مولوی صاحب کو میرے آنے کی خبر ہوئی اور نہ ہی مجھے جرات ہوئی کہ آواز دے کر اطلاع کروں۔کافی دیر بعد جب آپ نے سجدہ سے سراٹھایا اور نفل ختم کئے۔تو آنسووں سے چہرہ مبارک اور داڑھی اور جائے نماز تر تھے۔وہ منظر آج تک میری آنکھوں کے سامنے اسی طرح پھرتا ہے۔اور اس منظر نے میرے