حیاتِ خالد — Page 908
حیات خالد 889 گلدستۂ سیرت شعور اور لاشعور پر دعا کی اہمیت اور کیفیت اور کمیت کے بارے میں انمٹ نقوش چھوڑ کر میری تربیت میں اہم حصہ لیا۔اسی روز میں نے حضرت مولانا صاحب کی دعا کو قبول ہوتے بھی دیکھ لیا۔میدان مناظرہ میں آپ کی تقریر کے دوران اللہ تعالیٰ کی نصرت یوں نازل ہو رہی تھی گویا فرشتے اتر رہے ہوں۔آپ کے استدلال اور کمال علم اور پر شوکت انداز کلام کی بیت کے آگے پنڈت رام چندر دہلوی کی لسانی ختم ہو گئی اور یوں لگتا تھا کہ پنڈت جی کی قوت بیان جس پر انہیں اور تمام آریہ سماج کو ناز تھا۔اس روز سلب ہو کر رہ گئی۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ۔آخری ملاقات ۱۹۷۵ء میں جامعہ احمدیہ کی ایک تقریب میں ہوئی جس میں خاکسار کی تقریر تھی۔افسوس اس وقت قطعاً معلوم نہ تھا کہ یہ آخری ملاقات ہے۔محترم حضرت مولانا سیف الرحمن صاحب مرحوم و مغفور پر نسپل تھے اور ان دنوں ربوہ سے باہر گئے ہوئے تھے۔ان کی جگہ مولانا غلام باری صاحب سیف قائم مقام پرنسپل تھے۔انہوں نے مجھ ناچیز بیچ مدان پر یہ زیادتی کی کہ جامعہ سے باہر کے بہت سے اہل علم کو بھی مدعو کر لیا۔جن میں حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب بھی تھے۔اور جن کو حاضرین میں دیکھ کر خاکسار کو بہت شرمندگی ہوئی۔مولانا نے بھی منکسر المزاجی کی حد کر دی کہ تشریف لے آئے۔مقصد اس ناچیز کی ہمت افزائی ہی ہوگا۔تقریر کا موضوع ” جہاد زندگی یا اس سے ملتا جلتا تھا۔خاکسار نے تخلیق کا ئنات اور پیدائش حیات کے مختلف ادوار سے بات شروع کی۔اور ارتقائے انسانی کے حوالہ سے بالآخر روحانی زندگی اور اس میں نفس امارہ اور نفس لوامہ کی جدو جہد اور نفس معلمون کی منزل ، روحانی جدو جہد کی منزل مراد ہے، تک بات پہنچانے کی کوشش کی اور اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک لیکچر اسلامی اصول کی فلاسفی کی خوشہ چینی کی۔اس تقریر کے پہلے اور درمیانی حصے کے لئے اس وقت تک کی سائنسی تحقیق سے استفادہ کیا گیا تھا۔لیکن اس کو قرآن کریم کی محکمات سے تطابق کے لئے اپنے ذاتی قیاس اور اجتہاد سے بھی کام لیا تھا۔تقریر کے بعد حضرت مولانا ابو العطاء صاحب نے مجلس سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے از راہ ذرہ نوازی نیز رسم دنیا کوملحوظ رکھتے ہوئے خاکسار کی تقریر کی دل کھول کر تعریف فرمائی۔لیکن جو بات اس تبصرہ کا ماحصل تھی وہ آپ کا آخری فقرہ تھا۔جس میں آپ نے کمال ملائمت سے فرمایا ” تقریر کے بعض نکات پر بعض اعتراضات بھی پیدا ہوتے ہیں۔مگر میں ان میں نہیں جاؤں گا۔اس لئے کہ وہ