حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 897 of 923

حیاتِ خالد — Page 897

حیات خالد 878 گلدستۂ سیرت ملا ہے اور میں بلا مبالغہ کہ سکتا ہوں کہ آپ ان بیگانہ روزگار بزرگ رفقاء مسیح موعود کی صفات حسنہ کا مرقع اور ان کے خصائل و شمائل کے عکس جمیل بھی تھے اور آیت اللہ بھی۔وَلَنِعْمَ مَا قِيلَ لَيْسَ مِنَ اللَّهِ بِمُسْتَنكِر أنْ يَجْمَعَ العَالَمَ فِي وَاحِدٍ خدا کی قدرت) سے بعید نہیں کہ وہ پورے جہان کو فرد واحد کی ذات میں جمع کر دے۔اس کے مقابل اس حقیر اور نا کارہ کا یہ حال ہے کہ کوئی بھی کام کر نہ سکے اُس کی راہ میں رہتے ہیں اس خیال سے ہی شرمسار ہم اللهم انصُرْمَن نَصَرَ دِينَ مُحَمَّدٍ صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم وَاجْعَلْنا منهم *۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔⭑ مشفق و مهربان استاد محترم مولانا سلطان محمود صاحب انور ناظر خدمت درویشاں ) سلسلہ عالیہ احمدیہ کے چوٹی کے عالم ، مناظر ، اور نہایت شفیق اور بزرگ استاد حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب مرحوم و مغفور کی ان گنت شفقتوں اور عنایات میں سے چند ایک نہایت اختصار سے قارئین کی خدمت میں پیش کر کے ملیتی ہوں کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کی اس تاریخ ساز شخصیت کو ہمیشہ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔کہ جن کے فیض تربیت سے ہر مرحلہ پر راہنمائی اور روشنی ملتی ہے۔اللہ تعالیٰ اس محسن شفیق بزرگ استاد اور ان کی نسلوں تک کو اپنی رحمتوں اور برکتوں سے نوازتا رہے۔آمین۔جامعہ احمدیہ تقسیم ملک کے بعد تدریجا احمد نگر متصل ربوہ منتقل ہوا تو حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب پرنسپل تھے اور ہماری کلاس کے استاد بھی۔ایک دن مجھے دفتر میں بلا کر ایک علمی مضمون دیا کہ اگلے روز اسے صاف تحریر کر کے لاؤں۔خاکسار نے حسب ارشاد رات گئے تک مسلسل کوشش کی اور بفضلہ تعالی مضمون مکمل لکھ کر دم لیا۔اگلی صبح دفتر میں حاضر ہو کر مضمون حضرت مولانا صاحب کی خدمت میں پیش کیا تو انہوں نے بہت خوشنودی کا اظہار فرمایا اور مجھے دعاؤں سے نوازا۔تھوڑی دیر بعد ہماری کلاس میں حضرت مولانا کا وقت تھا۔تشریف لائے اور پڑھانے سے قبل ہر طالبعلم سے دریافت فرمایا کہ جو