حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 893 of 923

حیاتِ خالد — Page 893

حیات خالد 874 گلدستۂ سیرت بنا بریں اس وقت مجھے نمونۂ چند واقعات و مشاہدات پر اکتفا کرنا ہوگا۔جناب چوہدری عبد الحفیظ صاحب ایڈووکیٹ تقویٰ کی باریک راہوں پر گامزن سالک ملتان حال مقیم کینیڈا نے یہ آنکھوں دیکھا واقعہ بیان فرمایا کہ مجھے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب رحمہ اللہ کے ساتھ ملتان میں نامور احراری لیڈر اور احرار شریعت جناب سید عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب کی عیادت کا موقع ملا۔شاہ جی نے نام دریافت کیا۔آپ نے بلا تامل جواب دیا اللہ دتا جالندھری۔یہ سنتے ہی شاہ جی نے کہا کہ ہم تو ساری عمر تقریروں میں ہی اُلجھے رہے اصل کام تو آپ کی جماعت کر رہی ہے۔واپسی پر میں نے حضرت مولانا سے عرض کیا کہ اللہ دتا تو مدت سے متروکات سخن میں شامل ہو چکا ہے بلکہ اب تو بعض غیر احمدی اکابر کے سوا اسے کوئی جانتا بھی نہیں۔فرمانے لگے میاں! میں " ابو العطاء " ہی کہنا چاہتا تھا کہ یکدم خیال آیا کہ اُن کا نام عطاء اللہ ہے کہیں ابو العطاء " کے الفاظ سے اُن کے قلبی جذبات کو ٹھیس نہ لگ جائے۔سبحان اللہ۔بلاشبہ بدترین معائدوں کے جذبات و احساسات کا اس درجہ پاس اور احساس و احترام علمائے ربانی اور اہل اللہ ہی کا خاصہ ہے۔شاہ صاحب نے ۲۱ را گست ۱۹۶۱ء کو نہایت کسمپرسی کے عالم میں وفات پائی۔۲۶ رمئی ۱۹۶۲ء کا واقعہ ہے کہ لاہور کے دہلی دروازہ کی معراج بصیرت کی ایک جھلک بیت الذکر سے میری تحریک پر حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب سید نا حضرت مسیح موعود کے مقام وصال کی زیارت کے لئے احمد یہ بلڈ ٹکس میں تشریف لے گئے۔آپ کے ساتھ حضرت صوفی محمد رفیع صاحب امیر جماعت سکمر و خیر پور، حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب پانی پتی ، مولانا محمد احمد جلیل صاحب پروفیسر جامعتہ المبشرین، حضرت شیخ عبدالقادر صاحب مربی سلسلہ احمدیہ لاہور کے علاوہ یہ عاجز بھی تھا۔غیر مبائع اصحاب میں سے میرے ہم نام جناب مولوی دوست محمد صاحب مدیر "پیغام صلح ( وفات ۲۲ مئی ۱۹۷۹ء) ، شیخ غلام قادر صاحب ( صحابی حضرت مسیح موعود ) اور مولوی احمد یار صاحب سیکرٹری انجمن بھی مقام وصال تک ہمارے ساتھ تشریف لے گئے اور بتایا کہ حضرت اقدس علیہ السلام کا انتقال اس جگہ ہوا تھا نیز وضاحت فرمائی کہ اب اس مقام میں کچھ رد و بدل بھی کیا جا چکا ہے۔یہ سنتے ہی آپ نے محبت آمیز لہجہ میں دریافت فرمایا کہ یہ رد و بدل کب ہوا ہے؟ ایڈیٹر پیغام صلح نے جواب دیا ۱۹۱۴ء کے بعد۔اس پر حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے مسکراتے