حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 86 of 923

حیاتِ خالد — Page 86

حیات خالد 92 مناظرات کے میدان میں سلسلہ شروع کیا تھا وہ آپ کی بعثت کے ساتھ ایک عظیم تحریک کی شکل اختیار کر گیا۔بیسویں صدی عیسوی کا نصف اول جماعت احمد یہ اور اس کے مخالفین کے درمیان مناظروں اور مباحثوں کا بھر پور دور تھا۔یہ انگریز کی طرز حکومت کا نتیجہ تھا کہ ہر مذہب کو آزادی حاصل تھی اور نہ صرف آزادی حاصل تھی بلکہ انگریز حکومت امن و امان کی پاسداری بھی ضروری سمجھتی تھی لہذا جو فرقہ یا طبقہ ظلم و زیادتی پر اترتا تھا حکومت اس کی گوشمالی بھی کرتی تھی۔یہی وہ صورت حال تھی جس نے مذہبی اختلافات اور بحث و مباحثہ کو بھی بے قابو نہیں ہونے دیا۔جماعت احمدیہ کے علماء کرام اس بارے میں خصوصی مہارت رکھتے تھے اس کی وجہ یہی تھی کہ احمدی مناظر حضرات کا دارو مدار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے عطا کردہ علم کلام اور ناقابل شکست دلائل و براہین پر تھا۔جس کی وجہ سے احمدی مناظر جب اور جہاں بھی گئے خدا تعالیٰ نے فتح سے نوازا۔ایسے موقعوں پر مخالفین اکثر گندی زبان اور گالی گلوچ پر اتر آتے تھے لیکن احمدی مناظر حضرات نے ان کو کبھی ان کی زبان میں جواب نہیں دیا۔بلکہ اسلام اور احمدیت کا ٹھوس اور باوقار دفاع ان کا طرہ امتیاز رہا۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کو اللہ تعالٰی نے بھر پور قوت بیان سے نوازا تھا۔ٹھوس علم اور گہرا مطالعہ گویا سونے پر سہا گہ تھا۔نتیجہ یہ تھا کہ جب آپ مناظروں کے میدان میں اُترے تو چند ہی سال میں آپ کی شہرت دور دراز تک پھیل گئی اور جماعتوں کی طرف سے مطالبے ہونے شروع ہو گئے کہ مولوی ابوالعطاء صاحب کو بھیجا جائے۔نہ صرف احمدی بلکہ غیر احمدی عوام نے بھی بعض اوقات اپنے مشترکہ مسائل میں مدد لینے کیلئے حضرت مولانا صاحب سے مدد حاصل کی۔آپ کی زندگی کا یہ دور بے حد ہنگامہ خیز اور مصروفیت سے پر تھا۔آپ ایک انتھک مجاہد کی طرح ایک کے بعد دوسری جنگ کیلئے چل پڑتے تھے۔ابھی ایک مناظرہ سے آئے ہیں کہ دوسرے مناظرہ پر جانے کا حکم مل گیا اور آپ کتابوں کے صندوق بند کے بندا اٹھائے نئی منزل کیلئے نکل کھڑے ہوتے۔ذیل میں ہم حضرت مولانا صاحب کے ایسے مناظروں کی تفاصیل ترتیب زمانی کے اعتبار سے درج کر رہے ہیں جو جماعتی لٹریچر میں محفوظ ہیں یا بعض افراد جماعت کی یادداشت سے لی گئی ہیں۔فی الحقیقت یہ حضرت مولانا صاحب کی زندگی کا ہی نہیں جماعت احمدیہ کی تاریخ کا بھی ایک روشن دور ہے۔مناظرات کی فہرست اور ان کی تفصیل حتمی نہیں ہے۔سردست کل 94 مناظرات کا ذکر کیا جارہا ہے۔اگر کسی دوست ☆ کے علم کے مطابق کوئی مناظرہ رہ گیا ہو تو از راہ کرم مطلع فرمائیں تا کہ اس کمی کو اگلے ایڈیشن میں دور کیا جاسکے۔