حیاتِ خالد — Page 85
حیات خالد 91 مناظرات کے میدان میں جماعت احمدیہ کا مناظرات کا دور اللہ تعالیٰ نے اپنے مامور حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ جماعت احمدیہ کا قیام فرمایا اور اس کے استحکام اور اشاعت اسلام کیلئے ایک محکم و پائیدار نظام کی بنیاد رکھی اور اس کی صداقت کے ثبوت میں اپنے تائیدی نشانات، معجزات اور ناقابل تردید دلائل و براہین عطا فرمائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جابجا اپنی کتب میں ان سب کا ذکر کیا ہے جو جماعت احمدیہ کے لٹریچر کو غیر معمولی قوت و شوکت عطا کرتے ہیں۔آپ نے ان دلائل و براہین کو صرف اپنی کتب و اشتہارات اور تقریر ومباحثات میں ہی بیان نہیں فرمایا بلکہ جماعت کے علم کلام کا ٹھوس اور پختہ ہونا دنیا سے منوایا ہے اور اسلام و احمدیت کے ہر مخالف کو مبہوت و ساکت کر دیا ہے۔آپ کی جماعت کے داعیان الی اللہ جنہوں نے اس فیض سے حصہ پایا ہے ان کے بارہ میں آپ نے پیشگوئی فرمائی ہے جس کی صداقت پر ابتداء سے لے کر آج تک مخالفین و موافقین اپنے تجربہ سے گواہی دینے پر مجبور ہیں۔الحمد للہ آپ نے فرمایا : - ”خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائے گا اور میرے سلسلہ کو تمام زمین میں پھیلائے گا اور سب فرقوں پر میرے فرقہ کو غالب کرے گا اور میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور سے اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رُو سے سب کا منہ بند کر دیں گے اور ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی ہے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا “۔(کلیات الهیه روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۰۹) ہندوستان کی سرزمین میں انیسویں صدی کا آخری ربع مذاہب عالم کی ایک ایسی جنگ کی حیثیت اختیار کر گیا تھا جو مذاہب کے اعتبار سے عالم گیر کہلا سکتی ہے۔یعنی یہ کہ دنیا بھر کے تمام مذاہب اگر کسی ایک خطہ زمین پر جمع تھے تو وہ ہندوستان ہی کی سرزمین تھی اور یقینا اسی لئے اللہ تعالیٰ کی حکمت کا ملہ نے حضرت امام مهدی مسیح موعود علیہ السلام کو اسی سرزمین سے پیدا کرنا مقدر فرمایا تا کہ مسیح وقت اپنے ملک میں اپنے سامنے دنیا بھر کے تمام مذاہب کو چیلنج کر کے ان پر دین حق اسلام کی برتری اور فتح ثابت کر سکے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ مناظروں ، مباحثوں کا جو