حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 831 of 923

حیاتِ خالد — Page 831

حیات خالد 820 گلدسته سیرت مجھے اور میرے بیوی بچوں کو اپنے گھر میں جگہ دی اور ہماری ہر طرح سے دلجوئی فرمائی۔پھر میرے ملک سے باہر جانے کے لئے انہوں نے کئی ایک عزیزوں کو تحریک کر کے بطور قرض رقم حاصل کی اور دعاؤں کے ساتھ مجھے خو در بوہ سے فیصل آباد جا کر رخصت کیا۔میرے پردیس میں قیام کے دوران انہوں نے میرے گھر والوں کا ہر طرح سے خیال رکھا۔کسی قسم کی تکلیف نہ ہونے دی۔اپنی نصائح اور دعاؤں سے نوازتے رہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور اس کے بعد ان کی دعاؤں سے مجھے بہتر زندگی ملی۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے اس محسن بھائی کو اپنی رحمت کے سایہ میں جگہ دے۔آمین ه مکر مہ امته الرافع عباسی صاحبہ حضرت مولانا کی نواسی ہیں۔آپ تحریر فرماتی ہیں:۔نواسی ہونے کے ناطے ان کا مجھ سے پیار ہی الگ تھا۔ان کی زندگی میں ہم جب بھی پاکستان گئے وہ ہمیشہ ہمیں لینے کیلئے فیصل آباد ایئر پورٹ آیا کرتے تھے اور یہیں واپس چھوڑ نے بھی ساتھ آتے تھے۔جب ہم آپ کے پاس ربوہ آتے تو ہم سب کو دیکھ کر ان کے چہرے سے خوشی کے آثار جھلک رہے ہوتے۔اب بھی وہ مناظر آنکھوں کے سامنے ہیں۔مجھے اکثر پیار سے کہا کرتے کہ تم یہیں رہ جاؤ میرے پاس اور اپنی نانی کے پاس۔اپنی امی کو واپس جانے دو۔حضرت نانا جان گھر میں ہم سب بچوں کے نظم اور تقریروں کے مقابلے کرواتے۔کیونکہ میں نظم نہیں پڑھتی تھی اس لئے خاص طور پر مجھے نظم سنانے کو کہتے۔میں بہانہ کرتی کہ میری آواز اچھی نہیں ہے اس پر دلجوئی اور حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرماتے کہ کوشش کرو تو ہر کام آسان ہو جاتا ہے۔ضروری نہیں کہ صرف اچھی آواز والے ہی نظم پڑھیں۔میرے شوہر شاہد عباسی صاحب کو بھی بڑے ابا جان کے ساتھ گزرا ہوا وقت یاد ہے۔وہ گرمیوں کی چھٹیوں میں لاہور سے ربوہ تربیتی کلاس کے لیے آتے اور نانا جان کے ساتھ باقاعدہ صبح میر پر جاتے اور ایک پلنک پر بھی آپ کے ساتھ گئے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔آمین محترم ملک منصور احمد عمر صاحب فرض کی ادائیگی اور اقرباء سے حسن سلوک کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں :- فرض کی ادائیگی کو مقدم رکھتے۔آپ نے اپنے سب بچوں کو اعلی تعلیم بھی دلوائی لیکن یہ بھی خیال رکھا کہ ان کی شادیاں بھی ہر وقت ہو جائیں۔عام طور پر شادی کی عمر شروع ہوتے ہی شادی کی فکر کی۔