حیاتِ خالد — Page 826
حیات خالد 815 گلدستہ سیرت کے لئے اجازت طلب کی تو والد ماجد نے انہیں محبت آمیز اصرار سے ٹھہرالیا اور فوری طور پر گھر سے ٹھنڈا شربت منگوا کر تو اضع کے بعد انہیں رخصت فرمایا۔محتر مدامة الرفیق طاہرہ صاحبہ بیان فرماتی ہیں:۔جلسہ سالانہ کے دنوں میں شدید مصروفیت کے باوجود دعوتیں بھی ہوتیں۔مہمان نوازی اور گھر یلو مصروفیات میں ساتھ ساتھ امی جان کو تسلی بھی دیتے کہ مجھے پتہ ہے آج کل مصروفیت بہت ہے مگر ہمت کریں اس کا پھل اچھا ملے گا۔اکثر ایسا ہوتا کہ چار پانچ آدمیوں کی دعوت ہوتی مگر جب کھانے کا وقت آتا تو ۱۲ سے ۱۵ یا بعض اوقات نہیں ہیں مہمان بھی آجاتے۔امی جان کو اندازہ ہوتا تھا کہ ابا جان کی یہ عادت ہے اس لئے ہمیشہ انتظام کھلا رکھتیں۔جب چائے کی دعوت ہوتی تو فروٹ چاٹ خاص طور پر شوق سے بنواتے۔اس طرح ایک لحاظ سے یہ ہمارے گھرانہ کی خصوصیت (Speciality) بن گئی تھی۔1991 ء میں حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے کینیڈا میں میرے گھر کو رونق بخشی۔جب میں نے حضور رحمہ اللہ کی خدمت میں عرض کی کہ حضور چائے کے لئے تشریف لے آئیں ، تیار ہے۔تو فوراً فرمایا۔” تم نے فروٹ چاٹ بنائی ہے؟ میں نے تو مولوی صاحب کے گھر میں بہت کھائی ہے۔اتفاق سے فروٹ چاٹ بھی موجود تھی۔آپ نے نوش فرمائی اور فرمایا۔” وہی مزا ہے ساتھ ہی محترمہ امی جان سے فرمایا " مولوی صاحب تو بہت دعوتیں کرتے تھے اور راستے میں بھی جو ملتا اسے دعوت پر بلاتے جاتے تھے۔آپ کیسے انتظام کرتی تھیں؟۔امی جان نے کہا ” ہمیں اندازہ ہو گیا تھا ان کی طبیعت کا۔اس لئے پہلے ہی انتظام رکھتے تھے۔حضور رحمہ اللہ یہ سن کر بہت ہنسے۔مکرم امداد الرحمن صاحب مربی سلسلہ بنگلہ دیش لکھتے ہیں :- حضرت مولا نا بہت ہی مہمان نواز تھے۔حتی الامکان کسی کو بغیر تو اضع جانے نہ دیتے تھے اگر چہ ہم بہت کم عمر نو جوان اور طلباء تھے۔جائے کے ساتھ اکثر کوئی نہ کوئی کھانے کی چیز بھی ضرور ہوتی۔حضرت مولا نا دوسرے احباب کو کھلانے پلانے کے شوقین تھے مگر خود ہر گز پر خور نہ تھے۔فرماتے کہ کھاؤ اس لئے کہ کام کرنا ہے۔محنت کے لئے کھانا ضروری ہے اور جو کھانا ٹھیک طرح سے نہیں کھاتا وہ کام بھی زیادہ نہیں کر سکتا۔جماعت احمدیہ کے قدیمی خادم محترم مرزا عبد الحق صاحب امیر ضلع سرگودھا نے حضرت