حیاتِ خالد — Page 822
حیات خالد 811 گلدستۂ سیرت طور پر محترم قریشی فضل حق صاحب مرحوم جنرل مرچنٹ گولبازار ربوہ کی خدمات کو قبول کرتے ہوئے انہیں یہ ذمہ داری سونپ دی۔آپ نہایت عمدگی سے چائے اور ٹھنڈے پانی کا انتظام فرماتے رہے۔ایک دفعہ حضرت مولانا صاحب نے میری موجودگی میں حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ مہمان نوازی کے لئے جو رقم آپ نے عطا فرمائی تھی وہ ختم ہو چکی ہے۔اس کا حساب موجود ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا جب بھی اخراجات کی ضرورت ہو آپ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے اکاؤنٹنٹ سے میرے حساب میں لے لیا کریں۔ه مکرم مولانا عطاء اللہ کلیم صاحب سابق مربی انچارج گھانا، امریکہ اور جرمنی لکھتے ہیں :- مہمان نوازی آپ کی سرشت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ان کے گھر جو بھی گیا موسم کے مطابق نہ صرف مشروبات سے لطف اندوز ہوا بلکہ مٹھائی اور بیکری وغیرہ کی مصنوعات سے بھی خاطر تواضع کروا کے لوٹا اور اس اکرام ضیف سے امیر وغریب، اساتذہ و طلباء بغیر کسی تفریق کے حصہ پاتے رہے۔ه محترم ملک محمد عبد اللہ صاحب لکھتے ہیں :- 21 مہمان نوازی کی صفت حضرت مولوی صاحب میں بہت تھی۔جب کوئی دوست آپ کے ہاں جاتا تو حضرت مولوی صاحب اس کی خاطر تواضع ضرور کرتے اور اسی وجہ سے آپ کا خرچ آپ کی آمدنی سے شاید کچھ زیادہ ہی ہو جاتا ہو۔لیکن اس خدمت اور مہمان نوازی میں آپ کو بہت خوشی ہوتی تھی۔آپ کا تو کل علی اللہ بھی بے انداز تھا ان اخراجات سے آپ کبھی پریشان نہیں ہوئے۔اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات بڑی رحیم و کریم ہے۔میرا ہر روز کا مشاہدہ ہے کہ جب بھی اخراجات کی زیادتی ہو جاتی ہے وہ مسبب الاسباب غیب سے مدد فرماتا ہے اور سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح غیر معمولی امداد کا سامان کر دیا ہے۔کالج کے زمانہ میں آپ ایک دفعہ بیمار ہو گئے۔ان ونوں آپ کی رہائش احمد نگر میں تھی جو ربوہ سے قریباً دو میل کے فاصلے پر ہے۔مکرم پر و فیسر ڈاکٹر نصیر احمد خان صاحب کی تحریک پر کالج سٹاف کے چھ سات ممبران مغرب کے بعد آپ کی عیادت کیلئے احمد نگر گئے۔اس وقت مکان پر غالباً آپ کی بیگم صاحبہ کے علاوہ اور کوئی نہ تھا۔احمد نگر چھوٹا سا گاؤں تھا۔عشاء کے وقت وہاں پر کسی چیز کا ملنا مشکل تھا۔مگر آپ نے خود جا کر ہمسایہ کے ایک لڑکے کو بلا کر چائے وغیرہ کا انتظام کیا۔ہم سب نے کہا مولوی صاحب اس وقت آپ تکلیف نہ کریں لیکن آپ نے فرمایا آپ ربوہ سے چل کر آئے ہیں کچھ تو اکرام ضیف ہونا چاہئے۔