حیاتِ خالد — Page 81
حیات خالد 85 اساتذہ کرام تھے۔ان دنوں فتنہ مستریاں شروع تھا۔مولوی صاحب نے حضرت حافظ سے کہا کہ عبد الکریم آپ کا شاگرد ہے آپ کے کہنے کا وہ لحاظ کرے گا آپ اسے سمجھا ئیں۔حضرت حافظ صاحب نے فرمایا کہ میں یہ بے غیرتی نہیں کر سکتا جس شخص نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ ایسے محسن کا لحاظ نہیں کیا میں اسے ہرگز منہ لگانا پسند نہیں کرتا میں اس سے بات بھی نہیں کرسکتا۔دین کیلئے غیرت کے ہزاروں واقعات ہیں۔آپ کی خدمات دینیہ بے شمار ہیں ہم نے ان کا تدریس کا غیر معمولی شوق کسی اور میں نہیں دیکھا۔مجھے انہوں نے مقررہ نصاب کی کتابوں کے علاوہ بھی متعدد کتابیں علیحدہ اوقات میں پڑھائی ہیں۔درمین فارسی اور منہاج السنہ لابن تیمیہ اسی ذیل میں شامل ہیں۔سفر و حضر میں سلسلہ تدریس جاری رکھتے تھے۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے بہت ہی پیاری ذہانت عطا کی تھی۔آپ کو بر وقت بڑا عمدہ لطیفہ سوجھتا تھا۔ایک دفعہ محلہ دار الرحمت میں بابو غلام حید ر صاحب کے ہاں دعوت تھی۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایده اللہ بنصرہ بھی شمولیت فرمانے والے تھے سلسلہ کے ایک غیر معمولی کام کے باعث آپ بارہ بجے کی بجائے دو بجے بعد دو پہر تشریف لا سکے ہم سب انتظار میں بیٹھے تھے۔حضور مسکراتے ہوئے کمرہ میں داخل ہوئے اور فرمایا کہ آج ضروری کاموں کے باعث دیر ہی ہو گئی ہے۔اس پر حضرت حافظ صاحب نے بے ساختہ مگر مسکراتے ہوئے فرمایا کہ حضور ! کوئی دیر نہیں ہوئی آپ کے تشریف لانے سے اب وقت شروع ہوا ہے کیونکہ آپ تو ابوالوقت ہیں۔ہم لوگ جو ابن الوقت تھے بارہ بجے سے یہاں بندھے بیٹھے ہیں۔اس پر ساری مجلس میں ہنسی کی لہر دوڑ گئی۔حضور بھی ہنس پڑے۔حضرت حافظ صاحب کی خدمت کرنا سب طلبہ اپنی سعادت سمجھتے تھے اور حضرت حافظ صاحب نے طلبہ کی ہمدردی اور اعانت کو اپنا مذہب قرار دے رکھا تھا۔آپ اس شاگرد سے بہت خوش ہوتے تھے جو خدمت دین کو اپنا شعار بنالے۔آپ نے اپنی بیماری میں آخری وصیت یہی کی تھی کہ ”میرے شاگرد ہمیشہ تبلیغ کرتے رہیں اس سے اس روح کا پتہ لگتا ہے جو حضرت حافظ صاحب کے مد نظر تھی۔آپ کی وفات کے بعد ۱۹۳۰ء میں مجھے اللہ تعالی نے تمیمات ربانیہ کے تصنیف کرنے کی توفیق بخشی۔میں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کی اجازت سے اس کتاب کا انتساب حضرت حافظ صاحب موصوف کی طرف کیا اور اس کے اوپر لکھا کہ :-