حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 809 of 923

حیاتِ خالد — Page 809

حیات خالد 798 گلدستۂ سیرت حضرت مولوی صاحب کی وفات کے بعد ہمارا محلہ اداس ہے۔ہمارا ربوہ اداس ہے۔اور یقیناً ساری جماعت اداس ہے۔آپ کی وفات سے ہماری جماعت میں ایک بڑا خلاء پیدا ہو گیا ہے۔لیکن الہبی جماعتوں میں ہمیشہ یہ ہوتا آیا ہے کہ خدا تعالٰی اپنے پیاروں کے قائم مقام پیدا کرتا چلا جاتا ہے۔اور ہمیں یقین ہے کہ وہ حضرت مولوی صاحب کے خلاء کو بھی اپنے خاص فضل سے پر فرمائے گا۔اس وقت حضرت مولوی صاحب کی وفات احمدی نوجوانوں کو دعوت عمل دے رہی ہے کہ جس طرح حضرت مولوی صاحب عالم باعمل، اخلاق کے پیکر اور دین کے عظیم سپاہی تھے۔اسی طرح ہم بھی آپ کے نقش قدم پر چل کر یہ ثابت کریں کہ ہم اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور ان کی نیکیوں اور اوصاف کو ہمیشہ ہمیش کیلئے قائم و دائم رکھیں گے۔اے خدا تو حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب پر اپنی بے انتہا ء رحمتیں نازل کر۔انہیں حضرت رسول مقبول ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ان کے خلفاء کے قرب میں اعلیٰ علیین میں جگہ دے۔آمین مکرم ملک بشیر احمد صاحب دار الرحمت شرقی الف ربوہ تانگہ چلاتے ہیں، آپ نے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کے بارے میں جو مختصر اور سادہ سا مضمون لکھا ہے اس کا عنوان ہے۔” پیارے دوست کی اچھی باتیں ، آپ لکھتے ہیں :۔وو مولوی صاحب بے حد مخلص آدمی تھے۔بہت اچھی عادات کے مالک تھے۔ایک دفعہ ایک آدمی نے مجھے کہا کہ تم تانگے پر جنازے رکھ کر نہ لے جایا کرو۔گھوڑ ا مر جاتا ہے۔میں نے مولوی صاحب سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ کوئی بات نہیں۔یہ غلط خیالات ہیں پچھلے زمانے میں گھوڑوں پر ہی لاشیں لائی جاتی تھیں۔مولوی صاحب اچھے آدمی تھے۔سچ بولتے تھے۔اللہ تعالی ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔آمین 0 "" محترم صوفی بشارت الرحمن صاحب ایم اے نے رقم فرمایا:- مولوی صاحب کے رسالہ الفرقان میں نہایت عمدہ علمی نکات ہوا کرتے تھے۔دوسروں کے (غیر احمدیوں کے ) مضامین پر مختصر تنقید ہوتی۔اس سے مجھے انتہائی خوشی ہوتی تھی۔آپ اس میں مضمون نگاروں کی حوصلہ افزائی بھی کیا کرتے تھے۔محترم مولانا عبد الرحمن صاحب انور مرحوم نے ماہنامہ تحریک جدید ربوہ میں شائع شدہ ایک مضمون میں فرمایا: -