حیاتِ خالد — Page 810
حیات خالد " 799 گلدستۂ سیرت ” جب میں دفتر پرائیویٹ سیکرٹری ربوہ سے پنشن پر فارغ ہوا تو کچھ عرصہ مجھے مکرم مولوی صاحب کے رسالہ الفرقان میں بطور مینیجر کام کرنے کا موقع بھی ملا۔مکرم مولوی صاحب نے معاوضہ لینے کے لئے مجھے چٹھی لکھی لیکن میں نے کوئی معاوضہ لینا پسند نہ کیا۔اور باہمی تعاون سے یہ عرصہ بہت خوش اسلوبی سے گذرا۔اور احباب جماعت سے ان کی خوش گفتاری کے کئی واقعات دیکھنے کا بھی موقع ملا۔(ماہنامہ تحریک جدید دسمبر ۱۹۸۳ ، صفحه ۵) حضرت مولانا محبت بھرے دل کے مالک تھے۔احباب جماعت کی آپ سے محبت احباب جماعت سے محبت و شفقت آپ کی خاص صفت تھی۔لیکن آپ کی محبتوں کا جواب احباب جماعت نے بھی خوب دیا۔آپ کے مقام و مرتبہ کی وجہ سے آپ کی بے لوث خدمات کی وجہ سے اور آپ کی جادو اثر سیدھی دل میں اتر جانے والی تقاریر کی وجہ سے غرض آپ کی ہمہ جہت شخصیت کی وجہ سے احباب جماعت بھی آپ سے بے حد محبت کرتے تھے۔یہ ساری محبت لکھی تھی۔آپ الحُب اللہ کا ایک کیف آور وجد آفرین نظارہ تھے۔اس ضمن میں چند واقعات پیش کئے جاتے ہیں۔محترم سید رشید احمد صاحب آف سونگھڑہ انڈیا لکھتے ہیں :۔آپ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب سے احباب جماعت کی محض للہی محبت کی عجیب مثال ہیں۔ان کو حضرت مولانا سے آپ کی زندگی میں کبھی ملاقات کا موقع نصیب نہیں ہوا۔لیکن حضرت مولانا سے اس درجہ بے اختیار غائبانہ محبت رکھتے ہیں کہ اپنے بیٹے کا نام سید ابوالعطاء حسن احمد رکھا ہے۔یہ عزیز ۲۷ فروری ۱۹۷۶ء کو پیدا ہوا۔آپ نے حضرت مولانا کے بارے میں کتاب کی اشاعت کے بارے میں بے حد قیمتی اور قابل قدر مشوروں سے نوازا۔ان کی تحریر کے لفظ لفظ سے حضرت مولانا کی محبت ٹپکتی ہے۔انہوں نے لگ بھگ ۶۰ عنوانات اور حوالے تجویز کئے ہیں جن کو کتاب میں استعمال کیا جائے۔کتاب کے ظاہری حسن، سائز وغیرہ کے بارے میں بھی مشورے دیتے ہیں۔آپ کی تحریر کا ایک حصہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔آپ مکرم مولانا عطاء المجیب صاحب راشد کے نام اپنے خط میں لکھتے ہیں۔چند ساعت قبل آنمکرم کا خط ملا۔الحمد للہ۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی یاد دلائی۔محبت اور عقیدت کے آنسو میری آنکھوں میں بھر دینے کا محرک آپ کا خط ہوا۔آنکھوں میں آنسو ہیں۔حروف دھندلے نظر آنے کے سبب صاف نہیں لکھ سکتا۔اللہ تعالیٰ کی ہزار ہزار سلامتی ہو خالد بن ولید