حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 805 of 923

حیاتِ خالد — Page 805

حیات خالد 794 گلدستہ سیرت رسا کے مالک تھے۔مولوی فاضل کا امتحان پاس کرنے سے قبل ہی آپ کی تقاریر کے احباب جماعت بہت گرویدہ ہو چکے تھے اور مدرسہ احمدیہ سے فراغت کے بعد جب آپ نے اسلام کی تبلیغ کیلئے میدان عمل میں قدم رکھا تو نہ صرف آپ کے اساتذہ کرام جو خود بڑے جید علماء تھے یعنی حضرت حافظ روشن علی صاحب ، حضرت میر محمد اسحاق صاحب اور دیگر علمائے سلسلہ احمدیہ کو اپنے اس ہونہار شاگرد پر فخر تھا بلکہ غیر از جماعت علماء مثلاً مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری وغیرہ بھی با وجود مخالف سلسلہ احمد یہ ہونے کے آپ کی تقاریر اور تجر علمی کے قائل ہو چکے تھے۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی کس کس خوبی کا ذکر کیا جائے آپ ایک خوش پوش، خوش خوراک، خوش فکر اور خوش سیرت بزرگ تھے۔جو شخص بھی آپ سے ملنے آتا وہ آپ کا واقف ہوتا یا اجنبی آپ اسے اپنے کمرے کے دروازہ پر آ کر ملتے اسے اندر لے جا کر بٹھاتے۔حتی الوسع اس کی مہمان نوازی کرتے اور جب وہ واپس جاتا تو دروازے تک چھوڑنے آتے۔حضرت مولانا دوستوں کے دوست تھے۔بالا افسروں کی اطاعت خوب نبھاتے۔اگر افسروں سے کسی معاملہ میں کوئی شکر رنجی ہو بھی جاتی تو بھی ان کی اطاعت اور فرمانبرداری میں فرق نہ آنے دیتے۔نہایت غریب پرور اور ہمدرد بزرگ تھے۔ان کی یاد کبھی بھی دل سے محو نہیں ہوسکتی۔مکرم چوہدری محمد ابراہیم صاحب ایم اے تحریر فرماتے ہیں:۔اس دنیا میں انسان پیدا ہوتے ہیں اپنے اپنے دائرہ میں کام کرتے ہیں اور اس دار فانی سے اگلے جہان کو رچ کر جاتے ہیں۔مگر بعض انسان ایسے بھی اس جہان میں آتے ہیں جو اپنی خداداد قابلیت، خداترسی،علومر تنبت، اخلاق کی بلندی علمی جو ہر اور گوناگوں استعدادوں اور صلاحیتوں کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں ایسا گھر کر لیتے ہیں کہ اس جہان سے گزر جانے کے بعد بھی ان کی یاد دلوں میں زندہ و تابندہ رہتی ہے۔مولانا ابوالعطاء صاحب مرحوم کچھ ایسی ہی نادر روزگار شخصیتوں میں سے تھے۔سچی بات تو یہ ہے کہ ان کا ہشاش بشاش چہرہ ابھی تک نظروں کے سامنے ہے۔،، الفضل هم رفروری ۱۹۷۸ء صفحه ۴) جماعت احمدیہ کے معروف عالم دین، کئی کتب کے مصنف اور قدیمی خادم سلسلہ حضرت مرزا عبدالحق صاحب امیر جماعت احمد یہ ضلع سرگودھا و سابق امیر صوبہ پنجاب لکھتے ہیں :۔محترم مولانا ابوا العطاء صاحب کی بلندی درجات کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔مولانا مرحوم ہمارے ان بزرگوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی ساری زندگی خدمت دین کے لئے وقف کی اور