حیاتِ خالد — Page 802
حیات خالد 791 گلدسته سیرت مکرم ملک منصور احمد صاحب عمر مربی سلسلہ نے لکھا: - ارشا در پانی ہے لَن تَنالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ یعنی تم حقیقی نیکی نہیں پاسکتے جب تک تم وہ چیز خرچ نہ کرو جو تمہیں سب سے زیادہ عزیز ہو۔اپنی ہر پسندیدہ چیز رضائے الہی کی خاطر خرچ کرنے والا وجود جس کے دل کا ہر گوشہ محبت سے معمور تھا جس کے جسم کا ہر ذرہ فدائیت سے لبریز تھا، جس کے جذبات سراپا الفت تھے جس کے افکار پاکیزگی کے نور سے منور تھے، جس کی روح سراپا ہمدردی تھی، جس کی زندگی مجسم وفا کا ایک نمونہ تھی۔یہ تھے میرے خسر ، نہایت پیارے وجود، خالد احمدیت حضرت مولانا ابو العطاء رحمہ اللہ تعالیٰ۔بیمار تھے لیکن جان یوں جاں آفریں کے سپرد کی جیسے صحت مند ہوں۔خدمت کا تسلسل ٹوٹنے نہ پایا محبت کا رشتہ خوب نبھایا، وقار، محنت، وفا، حیاء قدر، علم معرفت ، الفت، ایثار اور ہمدردی کا پیکر تھے۔دین کے خادم، مخلوق کے ہمدرد، احمدیت کے فدائی، شمع خلافت کے پروانہ، رضائے الہی کے جو یاں، محبت الہی میں فناء عشق رسول میں سرشار، عاشق مسیح، خادم قرآن، عالم با عمل، غرضیکہ مجسم وفا تھے۔سب کچھ کرنے کے بعد جان کا نذرانہ یوں پیش کیا۔دی دی ہوئی اسی کی تھی جان حق تو ہے کہ حق ادا نہ ہوا خدا سے وفا کی ، خدا کے رسول سے وفا کی ، خدا کے دین سے وفا کی ، خدا کے کلام سے وفا کی ، خدا کے مسیح سے وفا کی ، خدا کے خلفاء سے وفا کا رشتہ استوار رکھا۔مخلوق سے وفا کی ، اقرباء سے وفا کی ، ہر آنے جانے والے سے وفا کی ، ہر واقف نا واقف سے وفا کی ، وفا کا پیکر، اپنی وفاؤں میں زندگی بھر یوں مصروف رہا کہ ایک ایک لمحہ کی حفاظت کی ، الغرض ہر لحظہ اور ہر آن خدمت میں مصروف رہا۔پوری زندگی مصروفیت سے عبارت تھی۔کمزور جاں لیکن مصروفیت مسلسل ، ان تھک محنت ، کوشش اور مجاہدہ۔نہ سردی کی پرواہ نہ گرمی کا احساس، یہ زندگی مشاہدہ کر کے میری تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔اب بھی اس کا تصور کرتا ہوں تو محو حیرت ہو جاتا ہوں۔یہ قیمتی و جو دسو چتا ہوگا کہ مختصر زندگی ہے کیوں نہ ہر نیکی جمع کر لی جائے۔تہجد میں خدا کے حضور گریہ وزاری، نماز میں صالحین کے امام ، نماز کے بعد علم و معرفت کا درس صبح کی سیر میں ساتھیوں کی رونق دفتر کے اوقات میں سرایا محویت گھر والوں کے لئے مجسم الفت، ملاقات کرنے والوں کے ساتھ سراپا احسان کسی کی دعوت رد نہ کی۔کسی کی عیادت میں خطا نہ ہوئی۔جنازہ و تدفین میں پیش پیش، نکاح و شادی کی خوشی میں شرکت ، محط وکتابت میں مستقل مزاج کسی کی