حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 79 of 923

حیاتِ خالد — Page 79

حیات خالد 83 اساتذہ کرام صاحب کا تھا وہ اپنی جاذبیت، وسعت اور پائداری میں بالکل نادر تھا۔اس لئے درحقیقت لوگ بھی حق بجانب تھے اور طلبہ بھی غیر معمولی لگاؤ کیلئے مجبور تھے۔ہمارے شیخ حضرت حافظ صاحب کی طبیعت کو دو ہاتوں سے چڑ تھی۔اول یہ کہ طالب علم چھٹی کا مطالبہ کریں۔دوم یہ کہ کوئی طالب علم تکلف اور بیگانگت اختیار کرے۔بارہا ایسا ہوا کہ کسی تقریب پر دوسرے اداروں یا سکولوں میں چھٹی ہو جاتی اور ہماری کلاس سارا دن لگی رہتی تھی۔جب ہم نے کہا کہ آج چھٹی کریں تو فرماتے کہ میاں مرنے کے بعد بہت چھٹیاں ملیں گی اب تو کام کر لو۔تکلف سے آپ کی طبیعت کوسوں دور تھی۔چنانچہ ہمیں اپنے استاد سے پوری بے تکلفی حضرت حافظ صاحب کی شاگردی میں ہی حاصل ہوئی اسی کا نتیجہ تھا کہ بعض دفعہ گھریلو معاملات کے متعلق بھی آزادانہ سوالات ہو جاتے تھے۔ایک دن میں نے کلاس میں ہی پوچھ لیا کہ حضرت! آپ کو دو بیویوں کا تو بہت آرام ہوگا ؟ (یاد رہے کہ ہم معلمین میں سے اکثر شادی شدہ تھے، اور میری شادی تو مدرسہ احمدیہ کے تعلیمی ایام میں ہی ہو چکی تھی ) حضرت حافظ صاحب نے بے تکلف فرمایا کہ دو بیویوں میں ہر وقت مسافر بننا پڑتا ہے۔پھر ہنس کر فرمایا کہ میں نے ایک اچھا انتظام کر رکھا ہے کیونکہ ہر گھر میں ایک دن گوشت اور ایک دن دال پکتی ہے اور ہر گھر میں میری باری اس دن آتی ہے جب وہاں گوشت پکتا ہے۔ایک دن اسی طرح ابتدائی دنوں میں میں نے ناواقفیت کی بناء پر پوچھ لیا کہ حضرت! آپ کے لڑکے کتنے ہیں؟ مجھے اپنے ساتھی سے فور آسن کر کہ آپ کا کوئی لڑکا نہیں ، اپنے اس سوال پر شرمندگی ہو رہی تھی اور خیال تھا کہ شاید ہمارے محبوب استاد کے دل کو اس سوال سے صدمہ پہنچے گا مگر قربان جائیں اس پیاری ادا پر کہ آپ نے بغیر کسی ملال کے بے ساختہ ہماری طرف ہاتھ بڑھا کر اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔تم سب میرے بیٹے ہوا ہم نے فورا کہا بالکل بیچ بالکل۔دہلی میں جماعت احمدیہ کا سالانہ جلسہ تھا۔میں حضرت حافظ صاحب کے ساتھ تھا اور میری تعا احمدیہ میں کے ساتھ تھا اور تعلیم کے آخری مہینے تھے۔وہاں پر ہی مرکز سے حکم آگیا کہ ساندھن میں بھی جلسہ ہے حافظ صاحب وہاں بھی تشریف لے جائیں۔آپ کی طبیعت علیل ہو گئی تھی۔آپ نے فرمایا کہ تم میری جگہ سا دھن سے ہو آؤ پھر دہلی سے اکٹھے واپس ہوں گے۔میں کچھ اچکچاتا تھا۔میرے پاس اور صاف کپڑے بھی نہ تھے۔آپ نے اسے محسوس کر لیا۔فوراً اپنی وہ سبز پگڑی جو سفر یورپ کے وقت آپ نے پہنی تھی مجھے دے دی اور کہا کہ یہ پگڑی پہن کر میری نیابت کر آؤ۔میں ساند ھن گیا جلسہ اچھا ہو گیا۔میں نے دہلی پہنچ کر پگڑی