حیاتِ خالد — Page 795
حیات خالد 784 گلدستۂ سیرت نے معقول دلائل بیان کئے اور زبان نہایت مہذب و شائستہ استعمال کی۔میں نے نوٹ کیا کہ مد مقابل کے دلائل نہ صرف غیر معقول تھے بلکہ زبان بھی بہت گندی تھی۔دعا ہے کہ خدا تعالیٰ حضرت مولانا ابو العطا صاحب جالندھری مرحوم و مغفور کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق بخشے اور ان کی اعلیٰ خوبیوں اور اعلیٰ صفات کا وارث بنائے۔آمین محترم عبد الحمید عاجز صاحب قادیان لکھتے ہیں:۔مولانا صاحب مرحوم نہ صرف ایک جید عالم دین اور ایک با کمال مناظر تھے بلکہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں آپ ایک باعمل عالم ہوتے ہوئے ہمیشہ نیکی اور تقویٰ کی راہوں پر گامزن رہے۔نہایت درجہ دعا گو اور روحانی انسان تھے۔خلافت کے ساتھ آپ کی گہری وابستگی آپ کا طرہ امتیاز تھا۔اور آپ کی ظاہری و باطنی خوبیوں کے باعث ہی حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے آپ کو خالد احمدیت کے لقب سے نوازا تھا۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اپنے فضل سے جماعت کے نئے مبشرین اور مبلغین صاحبان کو آپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان خوبیوں سے نوازے جو اس کی نظر میں محبوب ہوں“۔آمین مکرم محمد اشرف صاحب چوہدری ابن چوہدری محمد عبد اللہ صاحب ہرسیاں والے آف فریش میڈیسن کمپنی بلاک نمبر ۹ سرگودھا تحریر کرتے ہیں :- حضرت مولانا جن کو میں بچپن ہی سے ابا جان کہا کرتا تھا میرے ساتھ بڑی محبت کرتے تھے۔مجھے پیار کرتے اور ڈھیروں دعاؤں سے نوازتے۔میرے والد صاحب محترم چوہدری محمد عبد اللہ صاحب ہرسیاں والے جو کہ ربوہ میں سوڈا واٹر فیکٹری اور برف والے مشہور تھے، اکثر مولانا ابا جان کے ساتھ شکار پر جاتے اور جب مولانا ابا جان دینی کاموں کی وجہ سے نہ جاسکتے تو والد صاحب جو شکار کر کے لاتے میری ڈیوٹی ہوتی کہ جاؤ اپنے ابا جان کو پیش کر کے آؤ اور دعائیں لے کر آؤ۔میں جاتا تو مجھے جی بھر کر دعائیں دیتے اور میں اپنا دامن محبت پیار اور دعاؤں سے بھر کر لے آتا۔ہزار رحمتیں ان پر۔لاکھ دعائیں ان کی نذر۔وہ ایسے وجود تھے جنہوں نے دل سے ہر ایک سے پیار کیا اور پیار سکھایا۔دعاؤں سے لب تر ہیں۔خدا یا ان کو اپنی رحمتوں والی چادر میں رکھ۔جنت کے ہر دروازہ میں داخل کر۔آمین ثم آمین مکرم سجاد احمد خالد صاحب مربی سلسلہ رقم فرماتے ہیں:۔" دنیا میں کروڑوں اربوں مخلوق خدا پیدا ہوئی اور سب لوگ اپنی زندگی گزار کر ایسے غائب ہو