حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 790 of 923

حیاتِ خالد — Page 790

حیات خالد 779 گلدسته سیرت اتنی علمی دھاک بیٹھی ہوئی تھی کہ مخالف علماء انہیں سامنے سے آتا دیکھ کر اکثر اپنا راستہ تبدیل کر لیا کرتے تھے اور اس طرز عمل سے وہ آپ کی علمی برتری اور فوقیت کا اعتراف کرتے تھے۔ہر ملنے والے کو سلام کہنا اور سلام کہنے میں پہل کرنا دین حق کی ان اعلیٰ اقدار سلام میں سبقت میں شامل ہے جن پر جماعت احمدیہ سے خلاصین ہمیشہ عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور پاکبازوں کا یہ طریق رہا ہے کہ وہ دوسروں کو سلام کہنے میں ہمیشہ سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جماعت احمدیہ کے جن بزرگوں نے اس نیکی کو اختیار کرنے میں مداومت اختیار کی ہے اس کی انتہائی روشن مثال کے طور پر حضرت بانی سلسلہ کے صحابی حضرت مولانا شیر علی صاحب کا نام اکثر بیان کیا جاتا ہے۔حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری کی سیرت کے مطالعہ میں بھی ہمیں اس نیک نمونہ کا جابجا ذ کر ملتا ہے۔محترم محمود مجیب اصغر صاحب انجینیئر حضرت مولانا ابوالعطاء جالندھری کے اس نیک نمونہ کے بارے میں لکھتے ہیں :- وو حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کے چہرے پر ہمیشہ بشاشت موجود رہتی۔وہ بچوں اور بڑوں کو سلام کرنے میں ہمیشہ پہل کرتے۔تعلیم الاسلام کالج میں جب آپ پڑھایا کرتے تھے تو خاکسار بھی ان کا شاگرد تھا۔اس دوران خاکسار نے ذاتی طور پر کئی بار کوشش کی کہ سامنے سے اگر حضرت مولا نا تشریف لا رہے ہیں تو میں پہلے سلام کروں لیکن مولا نا ہمیشہ ہی سبقت لے جاتے اور کبھی ایک موقع بھی ایسا نہیں آیا کہ خاکسارا اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو سکا ہو“۔مکرم ملک بشیر احمد صاحب محلہ دار الرحمت شرقی الف ربوہ میں رہتے ہیں۔آپ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کا بے حد احترام کرتے ہیں۔آپ نے اپنے سادہ انداز میں حضرت مولانا کی اس خصوصیت کا ذکر کیا ہے۔جب بھی مولوی صاحب مجھے ملتے تو پہلے سلام کیا کرتے تھے۔حضرت مولانا کے اس نیک طریق کا اثر یہ ہے کہ مکرم ملک بشیر احمد صاحب تانگہ چلاتے ہوئے آنے جانے والوں کو با آواز بلند ہاتھ اٹھا کر سلام کرتے ہیں۔22 مکرم خواجہ عبد المؤمن صاحب لکھتے ہیں :- حضرت مولانا سلام کرنے میں ہمیشہ پہل کرتے۔کئی بار میری کوشش ہوتی کہ سلام کرنے میں پہل کروں لیکن حضرت مولوی صاحب دور سے ہاتھ ہلا کر سلام کر دیتے۔ہر چھوٹے بڑے کو سلام