حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 781 of 923

حیاتِ خالد — Page 781

حیات خالد 770 گلدسته سیر بارے میں بحث کر رہے ہیں۔اس کے بعد سے حضرت مولانا اپنی شگفتہ مزاجی کی وجہ سے مجھے پکا کوٹ“ کہہ کر ہی مخاطب فرماتے تھے۔مکرم چوہدری عبد القدیر صاحب تحریر فرماتے ہیں :- ایک دفعہ عید کے موقع پر جو قادیان میں حضرت اماں جان کے باغ نزد بہشتی مقبرہ میں پڑھی گئی ، ایسا اتفاق ہوا کہ شہد کی مکھیاں چھڑ گئیں اور نمازیوں کو کاٹنے لگیں۔یہ عجیب سماں تھا۔کوئی بھاگ رہا تھا۔کوئی کپڑا لے کر مکھیوں کو بھگا رہا تھا۔کوئی دائیں بھاگا کوئی بائیں۔اس طرح سے بعض احباب کے پوز (POSE) بڑے مزاحیہ بن گئے۔حضرت مولوی صاحب بھی اس تقریب عید میں شامل تھے۔واپس مہمان خانہ میں آکر حضرت مولوی صاحب نے اس واقعہ کا ذکر ایسے مزاحیہ اور دلچسپ رنگ میں کیا کہ مجلس زعفران زار ہو گئی۔اس موقعہ پر آپ کے صاحبزادے مکرم عطاء الحبیب صاحب راشد بھی ساتھ تھے۔حضرت مولوی صاحب کا بیان سن کر مجھے اندازہ ہوا کہ مولوی صاحب موصوف بڑے زندہ دل اور با مزاح آدمی ہیں۔ه مکرم عطاء المجیب صاحب را شد قادیان میں منائی گئی ایک عید کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- قادیان میں منائی گئی ایک عید مجھے ہمیشہ یاد رہے گی۔میں بارہ تیرہ سال کا تھا اور حضرت ابا جان کے ساتھ قادیان گیا ہوا تھا۔اس دوران عید کا موقعہ آیا تو یہ نماز بہشتی مقبرہ کے باغ میں ادا کی گئی۔ہوا یہ کہ عید کی نماز شروع ہوتے ہی اتفاقا وہاں درختوں میں لگے ہوئے شہد کے چھتے کو کسی نے چھیڑ دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ شہد کی بڑی مکھیاں ہر طرف گھومنے لگیں اور ہر ایک کو کاٹنے لگیں۔حضرت ابا جان امام الصلوۃ تھے۔نماز میں تکبیرات کے وقت ہاتھ بار بار بلند ہونے سے مکھیاں اور بھی شدت سے حملے کرنے لگیں۔مجھے یاد ہے کہ حضرت ابا جان نے موقعہ کی نزاکت کے پیش نظر نماز کی ایک رکعت میں سورۃ الکوثر کی تلاوت کی اور دوسری میں سورۃ الاخلاص۔نماز کے بعد خطبہ دینا بھی لازم ہے۔مجھے یاد ہے کہ حضرت ابا جان نے صرف دو تین منٹ کا خطبہ دیا جب کہ آپ نے پگڑی کے شملہ سے اپنا منہ ڈھانپا ہوا تھا اور دعا کروادی۔اس وقت تک مکھیوں کی یلغار بہت تیز ہو چکی تھی۔دعا سے فارغ ہوتے ہی کچھ لوگ تو بھاگ کر سیدھے ڈھاب کا نیل پار کر کے قادیان چلے گئے۔بعض دوسری اطراف میں بھاگنے لگے اور