حیاتِ خالد — Page 780
حیات خالد 769 گلدستۂ سیرت سے مالا مال کیا تھا اس کے پیش نظر آپ کی سیرت کے مطالعہ میں یہ پہلو بھی بہت دلچسپ اور نمایاں ہے حضرت مولانا صاحب کے بارے میں جن لوگوں نے تحریرات لکھی ہیں ان میں سے اکثر احباب نے حضرت مولانا صاحب کی طبیعت کی شگفتگی اور زندہ دلی کا ذکر کیا ہے۔اس ضمن میں چند ا حباب کرام کی آراء ملاحظہ فرمائیں۔مکرم چوہدری انور احمد صاحب کاہلوں سابق امیر جماعت احمد یہ برطانیہ کو جب وہ سابق مشرقی پاکستان میں قیام فرما تھے ایک بار بزرگان سلسلہ کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔حضرت مولانا ابو العطاء صاحب بھی ان میں شامل تھے۔مکرم انور کا ہلوں صاحب لکھتے ہیں :- حضرت مولوی صاحب روکھے سوکھے مولوی نہ تھے۔ہنسی مذاق سے خود بھی خوش رہتے اور دوسروں کو بھی خوش رکھتے۔اس قیام کے دوران دیکھا کہ مکرم و محترم مرزا عبدالحق صاحب برآمدے میں بیٹھے خط لکھ رہے ہیں۔حضرت مولوی صاحب نے پوچھا تو بتانے لگے گھر خط لکھ رہا ہوں۔حضرت مولوی صاحب مسکرا کر بولے پھر تو آپ دو خط لکھ رہے ہوں گے ( محترم مرزا صاحب کی دو بیویاں تھیں) آپ تو ضرور انصاف کرتے ہوں گے۔محترم مرزا صاحب زور سے ہنسے اور کہا۔ہاں میں دو خطوط ہی لکھ رہا ہوں۔محترم مولانا عبدالوہاب بن آدم صاحب امیر جماعت و مشنری انچارج جماعت ہائے احمد یہ گھانا ( مغربی افریقہ ) جو گھانا کے مقامی باشندے ہیں اور ربوہ سے دینی تعلیم حاصل کر کے گئے ہیں، لکھتے ہیں :۔زمانہ طالب علمی کی بات ہے کہ ایک دفعہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری اور حضرت مولانا غلام باری صاحب سیف مرحوم کے ساتھ قادیان جانے کی سعادت نصیب ہوئی۔ایک روز ہم ایک گلی میں سے گزر رہے تھے کہ اچانک پیچھے سے شور سنائی دیا۔ہم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ دو سکھ کسی بات پر بحث کر رہے ہیں۔ابھی ہم یہ سوچ ہی رہے تھے کہ آخر یہ کس بات پر اتنے زور وشور سے بحث کر رہے ہیں کہ اچانک ان میں سے ایک بڑی تیزی سے میری طرف بڑھا اور بڑے زور سے میرے ہاتھ کو رگڑا اور پھر مڑ کر اپنے دوسرے ساتھی کو مخاطب کرتے ہوئے بڑی بلند آواز میں کہنے لگا میں نہ کہتا تھا یہ پکا کوٹ (پکارنگ) ہے۔اس سے ہمیں پتہ چلا کہ اس بحث و تکرار کی وجہ یہ ہے کہ وہ میرے رنگ کے کچا یا پکا ہونے کے وو