حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 779 of 923

حیاتِ خالد — Page 779

حیات خالد لکھتے ہیں :- 768 گلدستۂ سیرت حضرت مولوی صاحب صبح گاہی سیر کے بہت دلدادہ اور پابند تھے۔فجر کی نماز کے بعد آپ سیر کے لئے باہر کھیتوں کی طرف تشریف لے جاتے۔چونکہ آپ کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا اور آپ نهایت ملنسار ، خوش خلق ، مہمان نواز اور خوش مذاق تھے۔لہذا اس صبح گاہی سیر میں سات آٹھ دوست آپ کے ہمراہ ہوتے اور سیر کے دوران نہایت عمدہ مذاق ، لطائف اور شعر و شاعری کا سلسلہ جاری رہتا۔یہ سیر عموماً نصف گھنٹہ تک ہوتی تھی۔بسا اوقات واپسی پر حضرت مولوی صاحب اپنے مکان پر سب کو چائے پلاتے کبھی یہ سعادت دوسروں کے حصہ میں بھی آتی۔- ه مکرم عبد الباسط شاہد صاحب لکھتے ہیں :- حضرت مولوی صاحب صبح کی سیر بہت التزام سے کیا کرتے تھے۔حضرت مولوی صاحب بالعموم نماز پڑھاتے۔درس با قاعدگی سے تو نہیں دیتے تھے مگر قریباً روزانہ ہی کوئی نہ کوئی عارفانہ نکتہ بیان فرماتے اور فجر کی نماز کے بعد سیر کے لئے تشریف لے جاتے جو بالعموم ربوہ سے مغرب کی سمت کھیتوں کی طرف ہوتی تھی۔اس سیر میں مختلف وقتوں میں مختلف بزرگ احباب مولوی صاحب کے ساتھ ہوتے تھے۔جس زمانہ کا میں ذکر کر رہا ہوں اس زمانہ میں محلہ (دار الرحمت وسطی ) سے مکرم مولانا نسیم سیفی صاحب سابق ایڈیٹر الفضل، مکرم صوفی خدا بخش صاحب، مکرم قریشی محمد عبد اللہ صاحب، مکرم کیپٹن احمد دین صاحب، حاجی برکت اللہ صاحب اور محلہ دار الرحمت غربی سے محترم مسعود احمد خان دہلوی صاحب، مکرم صوفی بشارت الرحمن صاحب، پروفیسر رفیق احمد ثاقب صاحب اور سیٹھ محمد اعظم صاحب ابن سیٹھ محمد غوث صاحب آف حیدر آباد دکن با قاعدہ جانے والوں میں شامل تھے۔خاکسار کو بھی اس با خوشگوار محفل سے استفادہ کا موقع ملتا رہا۔یہ سیر جہاں مشاہدہ قدرت کا موقع فراہم کرتی تھی وہاں حضرت مولوی صاحب کے علمی کارنامے، مناظرے، ادبی چٹکلے، لطیفے وغیرہ سننے کا موقعہ ملتا تھا۔دوسرے بزرگ بھی کارآمد اور دلچسپ امور بیان کرتے تھے۔اس طرح یہ سیر ایک نا قابل فراموش یاد کی حیثیت اختیار کر جاتی تھی۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری محض زاہد خشک نہ تھے۔بلکہ مزاح اور خوش مزاجی زندہ دل خوش مزاج اور مزاح کی صلاحیتوں سے بھر پور تھے۔کہتے ہیں کہ ذہین آدمی ہمیشہ مزاح پیدا کر لیتا ہے۔حضرت مولانا صاحب کو اللہ تعالیٰ نے ذہانت کی جس دولت