حیاتِ خالد — Page 778
حیات خالد 767 گلدستۂ سیرت بہت اچھی طرح گزرتا۔سیر کے دوران باری باری چائے کا دور بھی چلا کرتا۔ه مکرم ملک محمد احمد صاحب لکھتے ہیں :- صبح کی نماز کے بعد مسجد سے نکلتے ہی سیر کے لئے باہر کھیتوں کی طرف تشریف لے جاتے تو آپ کے علم سے فیضیاب ہونے کے لئے کثیر احباب ساتھ ہو جاتے کوئی دوست کوئی مسئلہ دریافت کر لیتا، کوئی خواب کی تعبیر پوچھتا، کوئی صاحب ہنسی مذاق کے طور پر کوئی لطیفہ سنا دیتے۔سیر سے واپسی پر متعدد مرتبہ آپ نے ساتھ جانے والوں کو گھر پر لا کر چائے پیش کی۔یا جامعہ احمدیہ کی ٹک شاپ پر بیٹھ کر سب کو چائے پلائی۔محترم محمد عبد اللہ قریشی صاحب رقم فرماتے ہیں :- محلہ دار الرحمت وسطی میں آپ کے قیام سے ایک سیر گروپ تشکیل پا گیا۔جس کے ممبران مکرم برکت اللہ صاحب پوسٹ ماسٹر ربوہ ، مکرم چوہدری سمیع اللہ صاحب سیال ، مکرم خواجہ فضل احمد صاحب، مکرم بشیر احمد صاحب نظام اور دیگر کئی دوستوں کے علاوہ خاکسار محمد عبد اللہ قریشی بھی شامل تھا۔یہ سیر دار الرحمت وسطی کی مسجد نصرت سے جامعہ احمدیہ آنے جانے تک ہوتی تھی۔چونکہ جامعہ کے گیٹ پر ٹک شاپ کھلی ہوتی تھی اس لئے یہ بھی معمول رہا کہ ہر مبر باری باری جملہ ممبران سیر پارٹی کو چائے پلا کر تازہ دم کردیں۔یہ سیر پارٹی مشک قسم کے ممبران پر مشتمل نہ تھی۔بلکہ ہرممبر اس میں پوری خوش دلی سے شریک ہوتا۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب بھی اس میں اکثر اپنے علمی اور فقہی تجارب اور مہذب لطائف سے محفل کو رنگین بنا دیتے تھے۔کبھی ایسا بھی ہوتا کہ یہ سیر جامعہ تک جانے کی بجائے کسی اور طرف ہو جاتی تو حضرت مولانا ساری پارٹی کو اپنے مکان پر لا کر اپنی بیٹھک میں لا بٹھاتے۔کچھ دیر گپ شپ ہوتی۔اتنی دیر میں مولوی صاحب کے کسی اشارہ پر اندر سے چائے آ جاتی اور اس کے ساتھ کبھی حضرت مولوی صاحب اسی کی پنجیری پلیٹوں میں رکھ کر ہر ممبر کو پیش فرماتے اور کبھی کوئی اور چیز چائے کے ساتھ پیش فرما کر بہت خوش ہوتے۔ایک دن میں نے عرض کیا کہ مولانا آپ کو تو شوگر ہے پھر یہ میٹھا کیسے کھایا جا رہا ہے۔مسکرا کر فرمانے لگے کہ یہ پنجیری تو میں نے اصلی شہد ڈال کر بنوائی ہے اس میں چینی تو نہیں ڈالی۔اس پر ساری محفل خوب محظوظ ہوئی۔بالآخر دعا پر یہ سیر ختم ہو جاتی۔ه مکرم ملک محمد عبد اللہ صاحب سابق لیکچرار تعلیم الاسلام کالج ربوہ اور سابق مینیجر الفضل