حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 758 of 923

حیاتِ خالد — Page 758

حیات خالد 747 گلدستۂ سیرت یہ واقعہ بیان کرنے سے میرا مقصد آپ کا اپنے طالب علموں اور شاگردوں سے دلداری اور شفقت کے سلوک کا اظہار ہے کہ کس طرح اپنے خرچ پر ایک لمبا سفر کر کے اپنے آرام و راحت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایک عام شاگرد کی خوشی میں شریک ہوئے۔محترم مولانا محمد صدیق صاحب گورداسپوری لکھتے ہیں :- جامعہ احمدیہ قادیان میں داخلہ کے چند ماہ بعد ہی جبکہ ہم دوران قیام احمد نگر بطور پرنسپل رحمتوں پر نے تمیم بندکا سانحہ پیش آگیا اور جامعہ احمدیہ پر تھے کے اساتذہ اور طلباء بھی ۱۰۔نومبر ۱۹۴۷ء کو قادیان سے لاہور آ گئے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی دور بین نگاہ نے بھانپ لیا کہ اگر یہ طلباء ادھر ادھر بکھر گئے تو ان کو اکٹھا کرنا مشکل ہو جائے گا کیونکہ اس وقت افرا تفری کا عالم تھا اور سب کے عزیز و اقارب ادھر ادھر بکھر چکے تھے جن کی تلاش میں اگر وہ نکل جاتے نہ معلوم کتنے ان میں سے واپس آتے اور کتنے نہ آ سکتے۔لہذا حضور نے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب گوار شاد فرمایا کہ جس قدر طلباء بھی لاہور میں موجود ہیں ان کو اکٹھا کیا جائے اور فوراً جامعہ احمدیہ کی کلاسیں شروع کر دی جائیں۔چنانچہ آقا کے ارشاد پر جامعہ احمدیہ اور مدرسہ احمدیہ دونوں ۱۳۔نومبر ۱۹۴۷ء کو لاہور میں کھل گئے۔ایک دو ماہ تک تدریس کا کام جاری رہا اور پھر طلباء کو رخصتوں پر جانے کی اجازت دے دی گئی تاکہ وہ اپنے عزیز واقارب سے مل سکیں۔خاکسار جب سیالکوٹ سے اپنے عزیزوں سے ملاقات کے بعد واپس لاہور آیا تو پتہ چلا کہ حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد پر جامعہ احمدیہ لاہور سے چنیوٹ منتقل ہو چکا ہے۔مکرم مولوی دوست محمد صاحب شاہد مورخ احمدیت ، مکرم چوہدری سردار احمد صاحب جو انگلستان میں مقیم ہیں اور بعض اور طلباء بھی وہاں مل گئے۔ہم سب بذریعہ بس لاہور سے چنیوٹ کے لئے روانہ ہوئے۔رات کے قریباً بارہ بجے ہم وہاں پہنچے۔منزل کا کوئی علم نہ تھا۔اس علاقہ اور شہر سے مکمل اجنبیت تھی۔بس سے اتر کر لوگوں سے اتا پتہ معلوم کرتے ہوئے ایک وسیع و عریض عمارت میں پہنچے جو گڑھا محلہ میں جامعہ احمدیہ کے لئے حاصل کی گئی تھی۔ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا ، غلاظت کے انبار تھے ، سونے کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی، اندھیرے میں جہاں جگہ ملی پاؤں پیارے اور رات بسر کی۔صبح حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب پرنسپل اور اساتذہ وطلباء سے ملاقات ہوئی۔جگہ کو صاف کیا گیا اور عمارت کی چھت پر کلاسیں شروع ہو گئیں !! کچھ عرصہ بعد حضرت مصلح موعود کی طرف سے ارشاد ملا کہ جامعہ احمدیہ کو احمد نگر منتقل کر دیا جائے۔کو