حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 723 of 923

حیاتِ خالد — Page 723

حیات خالد 712 گلدستۂ سیرت لئے تعلیم اور راہنمائی موجود ہے اور ہم آپ کو وہی بات کہتے ہیں جو قرآن کا منشاء ہے۔الغرض ہر حال میں قرآن سنانا آپ کا کام تھا۔یہ آپ کے عشق قرآن کا ہی نتیجہ تھا کہ آپ نے ایک بلند پایہ کمی وادبی رسالہ جاری فرمایا۔جس کے ذریعہ انوار قرآنی کی آخر دم تک اشاعت فرماتے رہے اور اس کا نام قرآن مجید کی محبت میں ہی "الفرقان" رکھا۔یہ آپ کے عشق قرآن کا ہی نتیجہ تھا کہ آپ کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے پہلا ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد تعلیم القرآن مقرر فرمایا۔اور آپ زندگی کے آخری لمحات تک یہ خدمت بڑی بشاشت سے ادا فرماتے رہے۔اللهم اغفر له وارحمه وادخله في جنت الفردوس۔آمین آپ کی وفات کی اطلاع مجھے گھانا (مغربی افریقہ ) میں ملی۔یہ ناگہانی خبر پردیس میں بہت تکلیف دہ تھی۔احباب جماعت کے ساتھ نماز جنازہ غائب ادا کی۔کئی دن تک سخت اداسی رہی۔ایک دن خواب میں دیکھا کہ ایک خوبصورت مکان ہے۔اس کا صحن بہت وسیع ہے۔اس کے درمیان حضرت مولانا اپنے سامنے ایک کتاب رکھ کر بیٹھے ہوئے مطالعہ فرمارہے ہیں۔میں خواب میں یہی کہتا ہوں کہ حضرت مولانا صاحب قرآن کریم کی تلاوت فرمارہے ہیں اور کسی گہری سوچ میں ہیں۔0 مكرم عطاء المنان صاحب رقم فرماتے ہیں :- مضان شریف میں محترم بھائی جان کا معمول تھا کہ نماز فجر کے بعد تلاوت قرآن پاک فرماتے۔پہلے دس روزوں میں ایک بار قرآن مجید ختم کرتے تھے۔پھر دوسرے عشرہ میں ایک بار پورا قرآن مجید تلاوت کرتے اور آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے اور بعض اوقات تین دن میں قرآن مجید پورا ختم کر لیا کرتے تھے۔قرآن کریم کا درس دینے کے لئے ہمیشہ بڑی کوشش سے تیاری کرتے تھے اور ہر درس کے موقعہ پر ان کے قرآن مجید پر نوٹس کا اضافہ ہو جایا کرتا تھا۔محترم محمد حنیف صاحب سابق مینجر ملٹری ڈیری فارمز حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی زوجہ اول کے بھائی اور حضرت مولانا کی ہمیشرہ محترمہ ہاجرہ بیگم صاحبہ کے شوہر تھے لکھتے ہیں : - آپ کو قرآن مجید کا بہت سا حصہ زبانی یاد تھا۔۱۹۷۵ء میں مجھے آپ کی معیت میں ایک شادی پر سیالکوٹ جانا پڑا۔راستہ میں آپ نے بے جا گفتگو سے احتراز کیا اور سارا وقت آپ تلاوت قرآن کریم میں مصروف رہے۔( الفضل اار جولائی ۱۹۷۷ء صفہیم )