حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 724 of 923

حیاتِ خالد — Page 724

حیات خالد 0 713 گلدسته سیرت محترم منصور احمد صاحب عمر نے حضرت مولانا کی گفتگو میں سے ایک پر معارف نکتہ بیان کیا۔وہ لکھتے ہیں۔کھانے کی ایک مجلس میں ایک دوست کہنے لگے کہ کھانے کی جس جس چیز پر میرا نام لکھا ہوا ہے وہ مجھے مل کر رہے گی حضرت مولانا صاحب فرمانے لگے کہ صرف یہی کافی نہیں ہے جب تک آپ اپنا ہاتھ اس چیز کی طرف نہیں پڑھائیں گے وہ چیز آپ کو ہر گز نہیں ملے گی کیونکہ اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے۔لَيْسَ لِلإِنسَانِ إِلَّا ما سعی یعنی انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کے لئے وہ کوشش کرتا ہے۔مكرم عطاء الکریم شاہد صاحب لکھتے ہیں : -۔0 آپ ہمیشہ قرآن کریم کی عظمت کے قیام کے لئے کوشاں رہتے چنانچہ فرمایا کرتے تھے کہ ریڈیو پر تلاوت کے دوران بھی قرآنی ارشاد کی پابندی کرتے ہوئے اسے خاموشی اور توجہ سے سننا چاہئے اور اگر کسی وجہ سے کبھی ایسا ممکن نہ ہو تو ریڈ یو بند کر دیا جائے تا ہے ادبی کی کوئی صورت پیدا نہ ہو۔زبانی ہدایت کے علاوہ گھر میں اس امر کی نگرانی بھی فرماتے۔قرآن کریم آپ کی روح کی غذا تھا۔خدا کے پاک کلام سے آپ کو اس قدر شغف اور محبت تھی کہ اپنی ساری دینی علمی اور انتظامی مصروفیات کے باوجود دن رات کے مختلف اوقات میں اس کی تلاوت آپ کا شعار رہا۔نماز تہجد کے بعد، نماز فجر اور سیز کے بعد ، ناشتہ کے بعد دفتر جانے کے لئے سواری کے انتظار کے دوران ، نماز عصر کے بعد اور اس کے علاوہ جب بھی موقع ملتا آپ کلام پاک کی تلاوت سے اپنی روح کو شاد کام کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرتے۔آپ کی تلاوت رسمی تلاوت نہ ہوتی بلکہ آپ پورے غور و فکر اور دل کی گہرائی سے تلاوت کرتے اور قرآن پاک کے معارف اور مطالب پر غور و فکر کے نتیجہ میں آپ کی آواز کے زیر و بم سے اس کا خوب اندازہ ہو جاتا ہے مثلاً جب دوران تلاوت والدین کے حق میں یہ قرآنی دعا آجاتی رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا (یعنی اے میرے رب ! میرے والدین پر رحم فرما کہ انہوں نے بچپن میں میری پروش کی تھی ) تو فرط جذبات سے آپ کی آواز بھرا جاتی ، آنکھیں نمناک ہو جاتیں اور آپ اس دعائیہ آیت کو کئی بار دہراتے۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری ان لوگوں میں سے تھے جن کے سینے دین کی جوش تبلیغ خدمت کی تڑپ سے شعلہ جوالہ بنے ہوئے ہوتے ہیں۔جن کی زندگی کا اہم ترین مقصد