حیاتِ خالد — Page 714
حیات خالد 703 گلدستۂ سیرت مکرم شیخ محمد یونس شاہد صاحب مربی سلسلہ سابق مبلغ سیرالیون لائبیر یاد گیمبیا لکھتے ہیں:۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے خطبہ جمعہ دیا۔ان دنوں گرمی کی شدت تھی اور بارش کافی عرصہ سے نہیں ہو رہی تھی۔حضرت مولانا نے خطبہ جمعہ کے آخر میں خود دعا کی اور سامعین کو بھی دعا کی تحریک کی۔اسی روز خطبہ جمعہ سے دو گھنٹے کے بعد خوب موسلا دھار بارش ہوئی۔فالحمد لله على ذلك 0 مکرمہ امتة الباسط شاہد صاحبہ نے حضرت مولانا کی قبولیت دعا کے ایمان افروز واقعات لکھے ہیں ملاحظہ فرمائیے :- ۱۹۶۹ ء کا ذکر ہے۔میرا بڑا بیٹا عزیز عطاء الحبیب خالد اس وقت قریباً پونے پانچ سال کا تھا۔میں بیت العطاء ( دار الرحمت وسطی ) میں رہائش پذیر تھی۔آپ ان دنوں احاطہ قصر خلافت میں مقیم تھے۔صبح سویرے بیت العطاء تشریف لائے اور محترمہ امی جان کو الگ لے جا کر کہا آج کچھ صدقہ دے دیں۔مجھ سے بالکل کوئی ذکر نہیں کیا اور کچھ دیر ٹھہر کر واپس چلے گئے۔اسی شام کو میرے بڑے بیٹے کو بخار نے آ لیا۔جوں جوں رات گزرتی جا رہی تھی بچے کا بخار تیز ہوتا چلا گیا۔حتی کہ بچے پر تشیع کے دورے پڑنے لگ گئے۔سخت پریشانی کے عالم میں آدھی رات کو ڈاکٹر کو بلایا گیا۔خیر دوائی دی اور فکر و غم سے رات کئی صبح چار بجے بچے کا بخار کم ہونا شروع ہو گیا۔اور وہ صبح تک بالکل نارمل ہو گیا۔ان ہی دنوں میں یہی حالت ایک پروفیسر صاحب کے اکلوتے بچے کی ہوئی تھی اور وہ وفات پا گیا تھا۔لیکن خدا تعالیٰ نے ہمارے بیٹے کونئی زندگی دی۔بعد میں کسی شخص نے بتایا کہ اس نے حضرت مولوی صاحب کو بیت المبارک میں سجدے میں گرے ہوئے نہایت رقت سے دعائیں کرتے دیکھا تھا۔اور یہ آپ کی درد بھری دعاؤں کا ہی نتیجہ معلوم ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے بچے کو شفا بخشی۔الحمد للہ۔اسی طرح ایک بار آپ کا نواسہ انتصار احمد ایاز جو کہ حضرت مولانا کی بیٹی امتہ الباسط ایاز صاحبہ کا اکلوتا بیٹا ہے اچانک بیمار ہو گیا۔مغرب کا وقت تھا کہ بچے پر نزع کی سی حالت طاری ہو گئی۔رنگ نیلا پڑ گیا اور آنکھیں پھر گئیں۔ایسی حالت دیکھ کر ہم سب گھبرا گئے۔بچے کی دادی جان جو کہ بہت با حوصلہ خاتون ہیں، وہ بھی شدت غم سے تھر تھر کانپنے لگ گئیں۔بچے کی والدہ بے قراری اور شدت غم سے رونے لگ گئیں۔تو اس وقت حضرت ابا جان نے بڑے حوصلے سے بیٹی کو سمجھایا کہ بے صبری نہ دکھاؤ۔اللہ سے مدد مانگو اور اس کے ساتھ ہی آپ خدا تعالیٰ کے حضور سجدے میں گر کر گڑ گڑا کر دعا مانگنے لگ