حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 710 of 923

حیاتِ خالد — Page 710

حیات خالد 699 پڑھنے میں بہت سرور محسوس ہوتا تھا۔اگر کبھی کسی مجبوری یا مصروفیت کی وجہ سے باجماعت نماز کے لئے وقت پر مسجد میں نہیں پہنچ سکے تو بعد میں مسجد میں آکر تنہا وہ نماز ادا کرتے۔میں نے بارہا آپ کو احمد نگر کے قیام کے زمانہ میں ایسا کرتے ہوئے دیکھا اور اس طرح باجماعت نماز سے محرومی کے ازالہ کے لئے آپ مسجد تشریف لاتے اور پیدل چل کر مسجد تک آنے کا جو ثواب احادیث میں بیان ہوا ہے اس کو حاصل کرنے کی کوشش فرماتے۔محترم مولوی عبد المنان صاحب شاہد مرحوم مربی سلسلہ نے الفضل میں مطبوعہ ایک 0 مضمون میں لکھا : - ایک مومن کا طرہ امتیاز اللہ تعالی پر کامل ایمان اور اس پر کامل تو کل ہے۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کو اللہ تعالی پر کامل ایمان تھا ہر وقت راضی بقضاء رہتے۔اللہ تعالی کو ہر دم حاضر ناظر جانتے تھے۔ایک دفعہ میں نے ان کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔آپ پوری توجہ اور انہماک اور نہایت رفت سے نماز پڑھ رہے تھے۔قعدہ میں جب آپ نے یوم يقوم الحساب“ پڑھا تو آپ کا بدن کانپ اٹھا اور لرزتے ہوئے سلام پھیر دیا۔یعنی قیامت کے دن حشر و نشر اور حساب و کتاب کا نقشہ جب آپ کے ذہن میں آیا تو خدا تعالیٰ کے سامنے اپنے اعمال کا حساب دینے سے ڈر گئے جسم کانپنے لگا اور روح پر رقت طاری ہو گئی۔0 مکرم ملک منصور احمد صاحب عمر نے لکھا: - آپ کی عادت تھی کہ پنجگانہ نمازیں مسجد میں ادا فرماتے تھے۔اگر کسی وقت آپ کی طبیعت علیل ہوتی تو زیادہ گرمی اور سردی میں بعض نماز میں گھر پر ادا فرما لیتے۔وگرنہ ربوہ میں محلہ دارالرحمت وسطی یا محلہ دار الرحمت غربی کی بیوت میں ہی نماز ادا کرنے کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔مغرب کی نماز بالعموم حضرت خلیفہ اسیج کی اقتداء میں مسجد مبارک میں ادا فرماتے اور مجلس عرفان کی صورت میں اس سے فیض حاصل کرتے۔0 حضرت مولانا کے چھوٹے بھائی مکرم عطاء المنان صاحب لکھتے ہیں :- " جب بھی بھائی جان گھر پر ہوتے تو نماز با جماعت کے لئے خود بھی جاتے اور ہمیں بھی ساتھ لے کر جاتے اور اسلامی شعار کی پابندی کے لئے ہر دم تلقین کرتے۔آپ کا نمونہ ہمارے سامنے تھا جس میں کوئی تضاد نہ تھا۔