حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 70 of 923

حیاتِ خالد — Page 70

حیات خالد 74 اساتذہ کرام کے بعد چند دنوں میں ہی خدا تعالیٰ نے وہ عزت اور رعب بخشا کہ جماعت نے یہ سمجھا کہ ان کے بغیر اب کوئی جلسہ کامیاب ہی نہیں ہو سکتا۔پھر کچھ عرصہ کے بعد ادھر میر محمد اسحاق صاحب کو انتظامی امور میں زیادہ مصروف رہنا پڑا اور ان کی صحت بھی خراب ہوگئی اور اُدھر حافظ روشن علی صاحب وفات پاگئے تو کیا اس وقت بھی کوئی رخنہ پڑا؟ اس وقت اللہ تعالی نے فوراً مولوی ابوالعطاء صاحب اور مولوی جلال الدین صاحب شمس کو کھڑا کیا اور جماعت نے محسوس کیا کہ یہ پہلوں کے علمی لحاظ سے قائم مقام ہیں“۔(الفضل ۱۹ نومبر ۱۹۴۰ء) ۱۹۴۴ء میں حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی وفات ہوئی تو جو مختلف خدمات دینیہ آپ کے سپرد تھیں وہ مختلف احباب جماعت کے سپرد کی گئیں۔چنانچہ درس الحدیث کی اہم خدمت حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کے سپرد ہوئی اور اس طرح خلیفہ برحق حضرت مصلح موعودؓ کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی بات ایک بار پھر بڑی شان سے پوری ہوئی اور اس طرح سے ایک رنگ میں علمی میدان میں حضرت مولانا حضرت میر محمد اسحاق صاحب کے جانشین قرار پائے۔(بحوالہ تاریخ احمدیت جلد ۹ صفه ۵۵۳) حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے اپنے دونوں بزرگ اساتذہ کرام کا ہمیشہ ہی نہایت محبت اور غیر معمولی عقیدت سے ذکر کیا ہے۔بالخصوص ہر دو عظیم اساتذہ کے بارہ میں ماہنامہ الفرقان کے دو خصوصی نمبر شائع کئے جو نہایت جامع گلہائے عقیدت سے پر ہیں۔حضرت علامہ میر محمد اسحاق صاحب حضرت میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مولانا کے مدرسہ احمدیہ میں استاد تھے۔۱۹۴۴ء میں ان کی وفات کے موقع پر حضرت مولانا نے تحریر فرمایا:- میرے نزدیک۔۔۔۔وہ باطل و غلط عقائد کے خلاف ننگی تلوار تھے۔اور خدا اور رسول ﷺ کے ذکر کے موقعہ پر رَجُلٌ بَكَاءُ ( بہت گریہ کرنے والے ) انسان تھے۔الفضل قادیان مورخه ۲۹ مارچ ۱۹۴۴ء صفحه ۲۱) الفرقان کا ستمبر اکتو بر ۱۹۶۱ء کا شمارہ حضرت میر محمد اسحاق نمبر تھا۔اس میں حضرت مولانا نے اپنے بزرگ استاد کے بارے میں محبت و عقیدت کے چند پھول کے دلکش عنوان کے تحت تحریر فرمایا:- استاذی امحترم حضرت میر محمد اسحاق صاحب سے مجھے سالہا سال تک شرف تلمذ حاصل رہا۔مدرسہ احمدیہ میں آخری چھ سال یعنی ۱۹۲۴ء تک قرآن مجید، احادیث، اور علم کلام میں وہ ہمارے استاد