حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 703 of 923

حیاتِ خالد — Page 703

حیات خالد کو قبول کروں گا۔0 692 ۲۱ فروری ۱۹۷۶ء۔شیر آ گیا ہے“۔گلدسته سیر میری عزیز بہن امتہ السمیع را شدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ اس الہام کا حضرت ابا جان نے ان سے زبانی بھی ذکر فرمایا ہے۔یہ الہام ان کے بیٹے منظور احمد عامر کی ولادت سے قبل کا ہے اور ساتھ ہی یہ تفہیم ہوئی تھی کہ یہ عزیزہ کے ہونے والے بچہ کے بارہ میں ہے۔0 ۲۶ فروری ۱۹۷۶ء کی ڈائری میں درج ہے۔احراریوں کی مسجد کے سنگ بنیاد کا چرچا تھا۔آواز سنی آمُ اَبْرَمُوا أَمْرًا فَإِنَّا مُبْرِمُونَ“۔(الزخرف:۸۰) کیا انہوں نے کچھ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے؟ تو یقیناً ہم نے بھی کچھ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔0 ۲ مارچ ۱۹۷۶ء کی ڈائری میں درج ہے۔اخویم با بو قاسم الدین صاحب آف سیالکوٹ سے گفتگو ہو رہی تھی۔سواریوں کا ذکر تھا۔انہوں نے آیت پڑھی۔كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِى شَأن (الرحمن : ۳۰ ) ہر گھڑی وہ ایک نئی شان میں ہوتا ہے۔مارچ ١٩٧٦ ء - رَبِّ لَا تَذَرُنِي فَرْدًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ (الانبياء :٩٠) ○ اے میرے رب ! مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب وارثوں سے بہتر ہے۔آپ مزید تحریر فرماتے ہیں :- مکرم و محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب ناظر اعلی و امیر مقامی ربوہ نے ایک مجلس میں مجھے سے ذکر فرمایا کہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے ان سے ایک موقعہ پر ذکر فرمایا تھا کہ اللہ تعالی نے انہیں اس الہام سے نوازا ہے۔سمینكَ المُعوَجل کہ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابا جان کی زندگی میں تو کل علی اللہ کا پہلو بہت ہی نمایاں رنگ میں ساری زندگی جلوہ گر رہا۔اللہ تعالی کی ہستی پر زندہ یقین ایک میخ کی طرح آپ کے دل میں گڑا ہوا تھا۔ہمیشہ اس قادر و توانا خدا کو اول و آخر اپنا معین و مددگار یقین کرتے اور ایک بچے موحد کی طرح ہر موقع پر اللہ تعالی کی طرف جھکتے اور اسی کا دروازہ کھٹکھٹاتے۔غیر اللہ کو پر کاہ کے برابر بھی حیثیت نہ دیتے تھے۔واقعی ایک بچے اور کامل متوکل بندہ خدا تھے۔گھر میں ہم بہن بھائی اپنی تعلیمی ضروریات کے لئے رقم لینے کے لئے آپ کے پاس جاتے۔جا کر ابا جان سے کہتے کہ ہمیں اتنی رقم کی ضرورت ہے تو آپ جیب میں ہاتھ ڈالتے۔رقم ہوتی تو فوراً