حیاتِ خالد — Page 682
حیات خالد 671 گلدستۂ سیرت الوداع کرنے کے لئے سٹیشن پر ضرور جاتے اور دعا کر کے رخصت کرتے تھے۔مولانا جلال الدین شمس صاحب کے ساتھ بہت محبت تھی۔اُن کی وفات پر ذمہ داریوں کا بوجھ خصوصی طور پر محسوس کیا۔اُن کے ساتھ بہت سی باتوں میں مناسبت بھی تھی۔ان کے والد صاحب کا نام، بیوی کا نام اور خالد احمدیت کا خطاب اور ان کا وقف کرنا وغیرہ۔ایک موقعہ پر صوفی مطیع الرحمن صاحب کی امریکہ روانگی پر الوداعی پارٹی تھی۔اس وقت مبلغوں کا امتیازی نشان یہ ہوتا تھا کہ جانے والے مبلغ کی سبز پگڑی ہوتی تھی۔مگر صوفی صاحب کی مشہدی پگڑی تھی تو سب نے کہا کہ آپ کو سبز پگڑی پہنی چاہئے۔آپ نے کہا کہ میرے پاس نہیں ہے تو اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ کیا اچھا ہے کہ پگڑیاں تبدیل کر لیں۔چنانچہ پگڑیاں تبدیل کرلیں۔جب مولوی صاحب ان کو گاڑی پر الوداع کرنے گئے تو صوفی صاحب نے کہا کہ میری پگڑی دے دیں تو مولوی صاحب نے کہا کہ آپ بھی میری پگڑی دیں دیں۔اس پر صوفی صاحب کہنے لگے کہ یہ بھی دینے کو دل نہیں چاہتا اور اپنی بھی چھوڑنے کو دل نہیں چاہتا۔اس پر مولوی صاحب اُسی وقت گھر سے اور پگڑی باندھ کر گئے اور صوفی صاحب کو ان کی پگڑی واپس کر دی۔یہ مولوی صاحب کی دوستوں سے با ہم بے تکلفی کا ایک نمونہ ہے۔اسی طرح پارٹیشن کے بعد کا ایک واقعہ ہے کہ آپ مسجد میں بیٹھے تھے کہ ایک دوست آئے اور کہنے لگے کہ میرے پاس پگڑی نہیں ہے نماز پڑھنی ہے تو مولوی صاحب نے جھٹ اپنی پگڑی اتار کر دے دی۔کسی نے کہا کہ اب آپ کیا کریں گے ؟ آپ نے کہا کہ میرا اللہ مالک ہے۔اتنے میں ایک آدمی دوڑا آیا اور کہا کہ یہ پگڑی مصلح موعود کی ہے۔حضور کی پگڑی دس گر کی ہوتی تھی۔اُس نے کہا مولوی صاحب ہم یہ آدھی آدھی کر لیتے ہیں۔چنانچہ جب قادیان سے پاکستان آئے تھے تو سفید پگڑی باندھی ہوئی تھی۔ہم سب حیران تھے تو پھر انہوں نے سارا واقعہ بتایا۔اس کے بعد انہوں نے پھر سفید پگڑی ہی باندھنی شروع کر دی۔مولوی صاحب کے والد صاحب کی شدید خواہش تھی کہ میرا بیٹا مولوی ثناء اللہ کو شکست دے۔وہ احمدیت کا سخت مخالف تھا۔چنانچہ اُن کی زندگی میں آپ کے مولوی ثناء اللہ سے مناظرے ہوئے اور بہت کامیاب ہوئے۔اللہ تعالی نے آپ کو نمایاں برتری عطافرمائی۔یہ دیکھ کر آپ کے والد صاحب کو بہت خوشی ہوئی اور جھٹ اُٹھ کر گلے لگا لیا۔اس وقت وہ بھی مناظرہ دیکھ رہے تھے۔خدا نے ان کی یہ