حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 678 of 923

حیاتِ خالد — Page 678

حیات خالد 667 گلدستۂ سیرت تھی نہ وہ صحیح نظر سے دیکھ سکتی تھی۔بے ہوش ہوگئی اور کوئی حرکت نہ کرتی تھی۔اور تشیع کے دورے بھی پڑتے تھے۔مجھ سے اس کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی اور روتی رہتی تھی۔مولوی صاحب آتے جاتے مجھے دیکھتے تو فرماتے خدا کی رضا پر راضی رہنا چاہئے مگر دل نہیں مانتا تھا کہ یہ مرجائے اور میں زندہ رہوں۔آخری روز اس کو عصر کے وقت سخت دورہ پڑا تو میں سخت گھبرا گئی۔مولوی صاحب نماز پڑھ کر گھر آئے تو میں نے کہا کہ آپ اس کے پاس بیٹھیں تو میں نماز پڑھ لوں۔چنانچہ نماز میں میں نے یہ دعا کی کہ خدایا اگر تیری رضا اس کی وفات میں ہے تو میں صبر کروں گی میں تیری رضا پر راضی ہوں۔خدا نے مجھے خوب دعا کی توفیق دی اور اس کے بعد اسی شام کو وہ وفات پاگئی - إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْن - اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے صبر کی طاقت عطا فرمائی اور اس کو بھی تکلیف سے نجات دی۔اس کے بعد خدا نے مجھے اس کا نعم البدل اور بیٹی عطا کی جو اس وقت زندہ سلامت بی۔اے پاس ہے اور واقف زندگی سے اس کی شادی ہوئی ہے اور وہ دین کی خدمت کر رہی ہے۔الحمد للہ۔میری شادی ۲۹ / نومبر ۱۹۳۰ء کو ہوئی تھی۔میرا رشتہ حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا نے تجویز کیا تھا اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو اس طرف توجہ دلائی کیونکہ آپ ہمارے اور مولوی صاحب کی گھر یلو حالت سے خوب واقف تھیں۔تین سال پہلے مولوی صاحب کے والد صاحب فوت ہو گئے تھے اور میری شادی سے دس ماہ پہلے ان کی پہلی بیوی فوت ہو گئی تھی اس بنا پر والدہ اور تین بھائی اور دو بہنوں اور تین اپنے بچوں کی ذمہ داری آپ پر پڑ گئی تھی۔سب سے بڑے آپ ہی تھے۔جب میں بیا ہی آئی تو یہ دس افراد کے کفیل تھے۔پھر آٹھ ماہ کے بعد آپ فلسطین میں تبلیغ پر روانہ ہو گئے۔پونے پانچ سال بعد کامیاب و کامران واپس آئے۔واپسی کے ڈیڑھ سال بعد آپ کی والدہ فوت ہو گئیں۔اُن کی خواہش تھی کہ اپنے بیٹے کو زندگی میں ملوں اور اُس کے ہاتھوں میں جان دوں۔چنانچہ آخری وقت میں مولوی صاحب کی گود میں اُن کا سر تھا اور مولوی صاحب ان کو دعائیں پڑھاتے رہے۔تدفین بہشتی مقبرہ قادیان میں ہوئی۔ان کے والد صاحب بھی وہیں دفن ہوئے تھے۔دونوں صحابی تھے۔مولوی صاحب کو اپنے والدین سے بڑی محبت تھی۔جب باہر سے آتے تو اپنی والدہ کو پہلے ملتے تھے اور والدہ کو بھی اُن سے بہت پیار تھا۔آپ نے ساری عمر راضی برضارہنے کے عہد پر عمل کرتے گزاری اور سب گھر والوں کو بھی اس پر عمل کراتے رہے۔دو چھوٹے بھائی بھی واقف زندگی تھے (مولوی عنایت اللہ اور حافظ عبدالغفور جنہوں